اسلام آباد (17 اگست 2026): مختلف وزارتوں ڈویژنز میں ڈیپوٹیشن پالیسی کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے اور حکومت نے اس سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق مختلف وزارتوں ڈویژنز میں ڈیپوٹیشن پالیسی کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے اور بعض محکموں میں ڈیپوٹیشن کی مدت مکمل ہونے کے 14 سال بعد بھی افسران کی تعیناتی کا انکشاف ہوا ہے۔
اوور اسٹے والے افسران کی زیادہ تعداد محکمہ تعلیم سے ہے۔
ان میں سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی راحیلہ فرحین 14 سال 8 ماہ کے اوور اسٹے پر کابینہ ڈویژن میں ہیں۔ محکمہ تعلیم بلوچستان کے تنویر کاکڑ بھی 14 سال 8 ماہ کے اوور سٹے پر بدستور کابینہ ڈویژن میں تعینات ہیں۔
محکمہ تعلیم بلوچستان کے حسن محمود 14 سال 5 ماہ کے اوور اسٹے پر وزارت صنعت وپیداوار میں تعینات ہیں جب کہ بلوچستان سے ویٹرنری آفیسر محمد اسماعیل 13 سال 10 ماہ کے اوور اسٹے پر وزارت خزانہ میں تعینات ہیں۔
کے پی سے سبجیکٹ اسپیشلسٹ شہادت علی 12 سال کے اوور اسٹے پر صنعت و پیداوار میں جب کہ محکمہ تعلیم سندھ کے عبدالصبور بھٹو 10 سال 2 ماہ کے اوور اسٹے پر وزارت خزانہ میں تعینات ہیں۔
ان کے علاوہ سندھ اسمبلی کی راحیلہ سندھیلو 10 سال 2 ماہ کے اوور اسٹے پر کشمیر افیئرز اینڈ جی بی میں، سینئر انجینئر نیسپاک محمد اسامہ شہباز 7 سال کے اوور اسٹے پر موجود ہیں۔
اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہے کہ افسران کو مرحلہ وار اپنے محکموں کو واپس بھیجا جا رہا ہے اور
خالی نشستوں کے لیے ایف پی ایس سی کی مشاورت سے سالانہ کیلنڈر مرتب کیا جا رہا ہے۔
اس وقت 99 سیکشن آفیسرز کی ٹریننگ کا عمل جاری ہے، ان کی جوائننگ کے بعد افسران کی قلت ختم ہو جائے گی، اور نئے افسران کی جوائننگ کے بعد اوور اسٹے والے افسران کو واپس بھیج دیا جائے گا۔


