The news is by your side.

اوگرا نے ریگولیٹڈ پٹرولیم انڈسٹری رپورٹ 2020-21 جاری کر دی

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مالی سال2020-21کےلئے ریگولیٹڈ پٹرولیم انڈسٹری رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ مڈ اور ڈاؤن سٹریم پٹرولیم سیکٹر کی نمو خصوصاً آئل، گیس، ایل این جی، ایل پی جی، سی این جی، آر ایل این جی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں ملکی مفاد اور تمام شراکت داروں کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے کیے گئے فیصلوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

آئل سیکٹر ڈیٹا:

مالی سال2020-21میں خام تیل کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.82فیصد اضافہ ہوامالی سال2020-21 میں 8.66ملین ٹن خام تیل درآمد کیا گیا جبکہ مالی سال 2019-20میں 6.77ملین ٹن خام تیل درآمد کیا گیا تھا۔ تیل کی تیار شدہ مصنوعات کی درآمد میں 23.70فیصد اضافہ ہوا ، جو گزشتہ مالی سال 8.10 ملین ٹن کے مقابلے میں 10.02ملین ٹن رہی۔ تاہم اسی عرصہ کے کے دوران ایوی ایشن فیول کی درآمد میں 0.17سے 0.05ملین ٹن 72فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔

ریفائنریز:

مالی سال 2020-21میں ریفائنریز کی مجموعی پیداوار میں 14.48فیصد اضافہ ہوا جو مالی سال 2019-20 میں 9.31ملین ٹن کے مقابلے میں 10.66ملین ٹن رہی۔
پٹرولیم مصنوعات کے استعمال کا ڈیٹا: مالی سال2020-21 میں پٹرولیم مصنوعات کا استعمال 12.95فیصد اضافے سے 19.92ملین ٹن رہا جو گزشتہ سال 17.63ملین ٹن تھا۔ مالی سال2020-21میں پی ایس او کا مارکیٹ شیئر 3فیصد اضافے سے 47فیصد رہا جو مالی سال2019-20 میں 44فیصد تھا۔

سٹوریج کی سہولیات: مالی سال2020-21کے اختتام تک آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایم ایس کےلئے 0.58ملین ٹن اور ایچ ایس ڈی کےلئے0.88ملین ٹن سٹوریج سہولیات تعمیر کر رکھی ہیں جو پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔

قدرتی گیس کے شعبے کا ڈیٹا:

مالی سال2020-21میں قدرتی گیس کی مقامی پیداوار 6فیصد کمی کے بعد 2,006ایم ایم سی ایف ڈی رہی جو مالی سال 2019-20 میں 2,138ایم ایم سی ایف ڈی تھی، جبکہ گیس کا استعمال 5فیصد اضافے سے 3,683سے 3,884ایم ایم سی ایف ڈی رہا۔

پائپ لائن نیٹ ورک:

پاکستان میں 13,768کلو میٹر ٹرانسمیشن اور 191,478کلو میٹر ڈسٹری بیوشن گیس پائپ لائن موجود ہے جس سے گھریلو و کمرشل اور صنعتی صارفین اور ٹرانسپورٹ شعبے کو گیس کی ترسیل کی جاتی ہے۔ گیس یوٹیلٹی کمپنیوں نے اپنے نئے صارفین تک گیس کی ترسیل کےلئے اپنا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک وسیع کیا ہے۔ مالی سال2020-21میں ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل نے اپنے ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں 37کلومیٹر اور 17کلومیٹر بالترتیب اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح ایس این جی پی ایل نے 7,141کلومیٹر اور ایس ایس جی سی ایل نے 929کلومیٹر اپنے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں اضافہ کیا ہے۔

نئے صارفین کا اضافہ:

مالی سال 2020-21میں ایس این جی پی ایل کے نیٹ ورک پر 371,618نئے صارفین کے اضافے صارفین کی مجموعی تعداد 7.41ملین ہو گئی ہے۔ جبکہ ایس ایس جی سی ایل کے صارفین کی مجموعی تعداد 95,436کے اضافے سے 3.21ملین ہو گئی ہے۔ مالی سال2020-21کے اختتام تک پاکستان میں قدرتی گیس کے صارفین کی مجموعی تعداد 10.62ملین ہو گئی ہے۔

شعبے کے اعتبار سے گیس کی فراہمی:

مالی سال2020-21میں گیس کا سب سے زیادہ استعمال 30فیصد1,305ایم ایم سی ایف ڈی توانائی کے شعبے میں ہوا ہے۔ گھریلو صارفین نے 20فیصد 862ایم ایم سی ایف ڈی ، فرٹیلائزر نے 19فیصد 829ایم ایم سی ایف ڈی ، جنرل انڈسٹری نے 8فیصد 365ایم ایم سی ایف ڈی اور کیپٹو پاور نے 5فیصد 203ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کی ہے۔ صوبوں کے اعتبار سے پنجاب کا شیئر 52فیصد 1,426ایم ایم سی ایف ڈی ، سندھ کا 39فیصد 1,052ایم ایم سی ایف ڈی ، خیبر پختونخوا کا 7فیصد 190ایم ایم سی ایف ڈی اور بلوچستان کا 2فیصد 64ایم ایم سی ایف ڈی تھا۔

قدرتی گیس کی فراہمی زیر جائزہ سال کے دوران 4,172ایم ایم سی ایف ڈی رہی جو گزشتہ سال 4,050ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔ ماری، سوئی ، اُچ، قادر پور، کندھکوٹ اور مارامزئی وغیرہ گیس کی فراہمی کی بڑی فیلڈز تھیں۔ مجموعی گیس میں سے 1,153ایم ایم سی ایف ڈی جو گزشتہ سال 1,057ایم ایم سی ایف ڈی تھی گیس فیلڈز/پروڈیوسرز سے براہ راست صارفین کو ترسیل کی گئی جبکہ بقیہ گیس یوٹیلٹی کمپنیوں کے ذریعے کی گئی۔

صوبوں کے اعتبار سے گیس کا شیئر:

گیس کی مجموعی فراہمی سے سندھ کا شیئر مالی سال2019-20میں 1,344ایم ایم سی ایف ڈی سے 11فیصد کم ہو کر مالی سال 2020-21 میں 1,192ایم ایم سی ایف ڈی ہو گیا ہے۔ پنجاب کے شیئر میں 9فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ سال 83ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں اس سال 91ایم ایم سی ایف ڈی رہا، بلوچستان کے شیئر میں ایک فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ سال335ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں اس سال 333ایم ایم سی ایف ڈی رہا۔ جبکہ خیبر پختونخوا کے شیئر میں 8فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال 368ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں اس سال 398ایم ایم سی ایف ڈی رہا۔ آر ایل این جی کا شیئر 13فیصد کے اضافے سے 857ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھ کر 969ایم ایم سی ایف ڈی ہو چکا ہے۔

زیر جائزہ مدت کے دوران گیس کی مجموعی سپلائی میں سندھ کے شیئر میں 45سے 40فیصد، خیبر پختونخوا کے شیئر میں 13سے 12فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ بلوچستان اور پنجاب کا شیئر بالترتیب 11فیصد اور 3فیصد پر برقرار رہا ہے۔ آر ایل این جی کا شیئر 29فیصد سے بڑھ کر 33فیصد ہو چکا ہے۔

تھرڈ پارٹی ایکسس رجیم:

اوگرا نے پاکستان گیس نیٹ ورک کوڈ(پی جی این سی ) مرتب کیے ہیں جن کا مقصدمعاہدوں کےلئے یونیفارم فریم ورک فراہم کرنا ہے جس کے تحت ملک میں گیس پائپ لائنز کے استعمال کےلئے تھرڈ پارٹی ایکسس اور مخصوص پراجیکٹ سے متعلق معاملات طے کیے جائیں گے۔ یہ قواعد ٹرانسپورٹرز اور شپرز کو بھی دفعات پر عمل پیرا ہونے کا پابند بناتے ہیں جس سے مختلف بزنس ماڈلز کی تکمیل کی جاتی ہے۔

اوگرا نے تھرڈ پارٹی ایکسس رجیم کے تحت انر گیس اور تعبیر انرجی کو ایل این جی ٹرمینلز کی تعمیر کے لائسنس کے علاوہ قدرتی گیس کی تقسیم اور فروخت کے لائسنس بھی مختلف درخواست دہندگان جیسا کہ کے الیکٹرک، انر گیس، تعبیر انرجی اور شیل وغیرہ کو جاری کر رکھے ہیں۔ اوگرا نے تحت ٹی پی اے رولز2018کے تحت اور پاکستان گیس نیٹ ورک کوڈ خواہشمند شپرز کےلئے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے ٹرانسپورٹرز کے ذریعے مخصوص پائپ لائن مختص کر رہی ہے۔ اوگرا نے ایس این جی پی ایل اور پی ایف ایل کے مابین اور ایم پی سی ایل اور پی ایف ایل کے مابین رسائی کے انتظامات کی منظوری دی ہے تا کہ متعلقہ شپرز تک پائپ لائن کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

ایل این جی سیکٹر ڈیٹا:

مالی سال2020-21 میں ایل این جی کی درآمد میں 13فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال 857ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں 969ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔ جبکہ اس کا قدرتی گیس میں مجموعی شیئر گزشتہ سال 29فیصد کے مقابلے میں اس سال 33فیصد رہا۔

ایل پی جی سیکٹر ڈیٹا:

مالی سال2020-21میں ایل پی جی کی طلب کا 61فیصد مقامی پیداوار سے پورا کیا گیاہے جبکہ باقی 39فیصد درآمد کی گئی۔ ملکی توانائی میں ایل پی جی کا حصہ 1.3فیصد ہے۔اس وقت ایل پی جی کی موجودہ مارکیٹ کا حجم تقریباََ 1,292,539میٹرک ٹن سالانہ ہے جو گزشتہ سال 1,149,352میٹرک ٹن کے مقابلے میں 12.46فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال2020-21 میں صنعتی شعبے کی جانب سے ایل پی جی کی کھپت میں 73فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے (184,328تا 319,265میٹرک ٹن)۔ جبکہ گھریلو صارفین اور کمرشل سیکٹرز میں بھی تقریباًایک فیصد کا با لتریب اضافہ ہوا ہے (472,056تا 475,678میٹرک ٹن اور 492,968تا 497,595میٹرک ٹن) ۔ مالی سال2020-21میں ایل پی جی کی درآمد میں 12.51فیصد اور ریفائنریوں کی پیداوار میں 24فیصد اضافہ ہوا ہے(161,434تا 200,019میٹرک ٹن)۔ گیس پیداواری فیلڈز سے ایل پی جی کی فراہمی میں 5فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ سال 593,061میٹرک ٹن کے مقابلے میں 560,922میٹرک ٹن رہی۔

مالی سال 2020-21کے اختتام تک ملک میں 23اپریشنل ایل پی جی آٹو ری فیولنگ اسٹیشنز، 11ایل پی جی پروڈیوسرز، 219ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاںمع 5,500سے زائد ڈسٹری بیوٹرز اور 56ایل پی جی ایکوئپمنٹ مینو فیکچررنگ کمپنیاں تھیں۔

سی این جی سیکٹر ڈیٹا:
م
الی سال2020-21 میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سی این جی کے استعمال میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے جو گزشتہ سال 127 ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں 108ایم ایم سی ایف ڈی رہی، اس کے علاوہ0 70سے زائد سی این جی اسٹیشنز بند ہو گئے ہیں۔ سیکٹر ز کے اعتبار سی این جی کا استعمال گزشتہ سال 3.11فیصد کے مقابلے میں 2.51فیصد رہا۔

اوگرا نے آئل و گیس کے شعبے میں مقابلے کی فضاءپیدا کرنے، نجی سرمایہ کاری کے فروغ مڈ سٹریم اور ڈاؤن سٹریم پٹرولیم سیکٹر کی ملکیت اور کورونا وائرس کے دور میں موثر ریگولیشن کے ذریعے مفاد عامہ کی حفاظت میں کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں