اسلام آباد : وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں روسی خام تیل (کروڈ آئل) کی ریفائننگ کیلیے بہت پیچیدگیاں ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں روس سے تیل خریدنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ روسی خام تیل (کروڈ آئل) کی ریفائننگ میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں اور پاکستان میں فی الحال صرف پارکو ریفائنری ہی اسے ریفائن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روسی تیل کو پراسیس کرنا دیگر تیل کے مقابلے میں مختلف ہے لہٰذا روسی تیل کی پروسیسنگ کے لیے خاص فنی صلاحیت درکار ہے۔
پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومت عوام پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی۔صرف وزیراعلیٰ کے پی ہی نہیں بلکہ ہم سب یہی چاہتے ہیں کہ عوام پر مالی بوجھ نہ پڑے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ملکی توانائی کی 90 فیصد ضروریات امپورٹ کرتے ہیں اور جب عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں بھی بجٹ میں یا پھر فوری قیمتیں بڑھانا پڑتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت اگر یہ دونوں اقدامات نہیں کرتی تو ایندھن کی فراہمی کم ہوجائے گی، آبنائے ہرمز بند ہونے سے پاکستان میں اب 20 دن میں ایندھن پہنچے گا۔ ،
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے بہت جلد اپنے اخراجات کم کرتے ہوئے نظرآئیں گے، جنگی ماحول میں یہ غیریقینی صورتحال ہے کیونکہ جنگ ختم ہونے کی تاریخ کسی کو نہیں پتہ،
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سابق وزیر خزانہ سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ مفتاح اسماعیل قابل احترام ہیں وہ موجودہ تمام صورتحال کو بخوبی سمجھتے ہیں، تاہم ایندھن کی قیمتوں پر کوئی بھی سیاست کرے تو دکھ ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس کا تقاضا ہے کہ انہیں 22 دن کا اسٹاک رکھنا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کمپنیوں کے منافع کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
خطے کی صورتحال سب کو پتہ ہے، پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے، خطے کی صورتحال کو سمجھ کر لوگوں کو گمراہ نہ کیا جائے، سپلائی چین سپورٹ کیلئے پرائیوٹ سیکٹر کو جو تحفظ دیا جارہا ہے اس میں کوئی کرپشن نہیں۔
صورتحال مزید خراب ہوئی تو متبادل ذرائع کی طرف جانا پڑے گا جو بہت مہنگا پڑے گا، سپلائی چین کیلئے متبادل راستے تو موجود ہیں مگر قیمتوں میں فرق آسکتا ہے، حکومت سنجیدگی کے ساتھ ہر سطح پر قومی ایمرجنسی کے طورپر اقدامات کررہی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


