اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

دانتوں اور منہ کی صفائی کیلیے ’آئل پُلنگ‘ کیسے کرنی چاہیے؟

اشتہار

حیرت انگیز

دانتوں اور منہ کے امراض ہر انسان کیلیے پریشانی کا باعث ہیں زمانہ قدیم میں بھی دانتوں کی تکالیف سے چھٹکارے کیلیے مختلف طریقوں پر عمل کیا جاتا تھا جن میں سے ایک آئل پُلنگ بھی Oil Pulling ہے۔

آئل پُلنگ Oil Pulling کیا ہے اور کیسے کی جاتی ہے اس حوالے سے زیر نظر مضمون میں تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

آئل پُلنگ Oil Pullingکیسے کی جائے؟

آئل پُلنگ (oil pulling)دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا صدیوں پرانا ایورویدک طریقہ کار ہے آپ کو منہ اور پیٹ کے بے شمار مسائل سے آئل پُلنگ کی مدد سے باآسانی نجات مل سکتی ہے۔

Oil Pulling

منہ اور جسمانی صحت کے لیے مفید قرار

آیوروید طب کی ایک اہم شاخ ہے جو صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ بیماریوں کے علاج اور جسمانی صحت کی بحالی کے لیے مختلف قدرتی طریقۂ علاج بھی تجویز کرتی ہے۔

ان طریقوں میں جسم کو نقصان دہ اور زہریلے مادّوں سے پاک کرنے کے لیے پنچکرما جیسے طریقۂ تطہیر بھی شامل ہیں۔ ان ہی میں ایک طریقہ “تیل نکالنا” (آئل پُلنگ) بھی ہے، جو منہ کی صفائی اور مجموعی صحت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ علاج منہ کے لاکھوں کروڑوں بیمار کرنے والے بیکٹیریاز کو کھینچ کر نکال باہر کرتا ہے اسی لیے اسے Oil pulling کہتے ہیں

بھارت کے شہر بھاپال سے تعلق رکھنے والے بی اے ایم ایس (آیورویدک) معالج ڈاکٹر راکیش رائے کے مطابق تیل نکالنا ایک قدیم آیورویدک تکنیک ہے، جسے ماضی میں بزرگ حضرات منہ اور معدے کو صحت مند رکھنے کے لیے اپناتے تھے۔

Oil Pulling Dental Clinic

ماہرین کے مطابق منہ اور آنتوں کی صحت پورے جسم کی درست کارکردگی کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ غذا کا داخلہ منہ کے ذریعے ہی جسم میں ہوتا ہے۔ اگر منہ میں موجود مضر بیکٹیریا خوراک کے ساتھ جسم میں داخل ہو جائیں تو وہ نظامِ ہضم کو متاثر کر سکتے ہیں۔

آئل پُلنگ کے فوائد

امریکی ادارے نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق انسانی منہ میں مفید اور مضر دونوں اقسام کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ نقصان دہ بیکٹیریا دانتوں کی خرابی، مسوڑھوں کی سوزش، سانس کی بدبو اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر راکیش رائے کا کہنا ہے کہ تیل نکالنے کے عمل کے دوران یہ مضر بیکٹیریا تیل کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور کلی کرنے کے بعد باہر نکل جاتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف دانت بلکہ زبان، مسوڑھے اور گلا بھی صحت مند رہتے ہیں۔ یہ طریقہ مسوڑھوں کی سوزش، سانس کی بدبو اور دانتوں میں کیڑا لگنے جیسے مسائل میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

آئل پُلنگ کا طریقہ کار

ماہرین کے مطابق ایک کھانے کا چمچ تیل لے کر اسے 15 سے 20 منٹ تک منہ میں گھمائیں، جیسے غرارے کیے جاتے ہیں۔ اس دوران تیل کو نگلنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس میں مضر بیکٹیریا شامل ہو سکتے ہیں۔ جب تیل پتلا اور دودھیا سفید ہو جائے تو اسے تھوک دیں اور نیم گرم پانی سے منہ اچھی طرح صاف کر لیں، آیوروید کے مطابق اس عمل کے لیے صبح نہار منہ وقت کو بہتر سمجھا جاتا ہے۔

Oil Pulling for Teeth

کون سا تیل استعمال کیا جائے؟

، ماہرین صحت کے مطابق کوکونٹ آئل کے استعمال سے جو انتہائی پیچیدہ امراض بھی ٹھیک ہوسکتے ہیں ان میں دانتوں کی تکالیف بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تل یا سورج مکھی کا تیل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ناریل اور تل کا تیل زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اگر دانتوں میں شدید مسئلہ ہو یا عمل کے دوران زبان پر سفید دھاریاں ظاہر ہوں تو تیل نکالنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

احتیاطی تدابیر

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تیل کو ہرگز نہ نگلا جائے۔ صرف خالص اور معیاری خوردنی تیل استعمال کیا جائے۔ چھوٹے بچوں، تیل سے الرجی رکھنے والے افراد یا منہ کے مخصوص امراض میں مبتلا افراد کو یہ طریقہ اپنانے سے قبل معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تیل نکالنے کو روایتی طور پر مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

 

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں