جمعہ, اپریل 17, 2026
اشتہار

دلّی میں مدفون ایک نہر جس نے شہر کو کبھی رشکِ باغ و گلزار بنا رکھا تھا

اشتہار

حیرت انگیز

چاندنی چوک دلّی کا سب سے بڑا بازار تھا اور اب تک دلّی کا سب سے زیادہ شان دار بازار ہے، جو لال قلعہ کے سامنے سے شروع ہو کر فتح پوری مسجد پر ختم ہوتا ہے۔ اس وقت اس بازار میں دونوں طرف دکانوں سے ملی ہوئی دو پٹریاں ہیں، جن پر لوگ پیدل چلتے ہیں۔ پٹریوں کے برابر برابر ہی ٹریموے دوڑتی ہے۔ بیچ میں پختہ سڑک ہے جس پر ہر قسم کی سواریاں چلتی ہیں۔

اب سے پچاس کیا، پچیس برس پہلے تک اس کا حال بالکل برعکس تھا۔ بازار کے بیچوں بیچ اچھی خاصی چوڑی نہر بہتی تھی اور نہر کے دونوں طرف تمام بازار میں دو سڑکیں تھیں۔ ایک نہر کے شمال میں اور دوسری جنوب میں۔ ممکن ہے کہ شاہجہاںؔ اور عالمگیرؔ کے زمانے میں ان میں سے ایک قلعہ کی طرف جانے والوں کے لیے مخصوص ہو اور دوسری قلعہ سے فتح پوری کی جانب آنے والوں کے لیے۔

نہر جو اس بازار کے وسط میں سے گزرتی تھی، شہر کے ساتھ ساتھ بنی تھی۔ کہتے ہیں کہ غدر کے آس پاس کے زمانہ تک اس بازار میں کھلی بہتی تھی۔ پھر انگریزوں نے اس کو اوپر سے پاٹ کر پیدلوں کے لیے پٹری کی صورت میں بدل دیا۔ نیچے پانی بہتا تھا اور اوپر چلنے والے چلتے تھے مگر جا بجا دہانے یا موکھے تھے جو لوہے یا لکڑی کے تختوں سے ڈھکے رہتے تھے۔ حتی کہ انہیں کو کھول کر چھڑکاؤ کے لیے پانی لیتے اور صبح شام چاندنی چوک میں چھڑکاؤ کیا کرتے تھے۔

دمشق میں ایک چھوڑ کئی کئی نہریں تھیں اور ان کی شاخیں شہر کے محلّے محلّے بلکہ گھر گھر پہنچتیں اور حوضوں کو بھرتی ہوئی بہتی چلی جاتی تھیں لیکن بازار میں جہاں تک مجھے یاد ہے، کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ یہ کبھی دلّی ہی کی خصوصیت تھی کہ اس کے بازار بلکہ بازاروں میں نہر بہتی اور ان کے حسن کو دوبالا کرتی تھی۔ اس وقت شہر اور چاندنی چوک سے کچھ ایسی غائب یا روپوش ہوئی ہے کہ دلّی کو جو لوگ اب دیکھتے ہیں، ان کو یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ کبھی یہاں نہر بہتی تھی، جس نے قلعۂ معلیٰ دلّی اور اس کے اطراف کو رشکِ باغ و گلزار بنا رکھا تھا۔

دلّی کی طرح یہ نہر بھی تاریخی حیثیت رکھتی ہے اور شاہجہاں کی عمارتوں کی طرح اس وقت کی انجینئری کا بہترین نمونہ ہے مگر افسوس کہ سرستی کی طرح دلّی کی زمین میں مدفون ہے۔ نوجوانوں کا کیا ذکر ہے، جن کے آنکھ کھولنے سے پہلے یہ نہر غائب ہوچکی تھی۔ بوڑھے سے بوڑھے بھی اس نہر اور نہر کے حالات کو فراموش کرتے جاتے ہیں۔ حال ہی کی بات ہے کہ ایک صاحب سے، جو میرے ہم عمر ہوں گے بلکہ کچھ بڑے، خاص دلّی کے رہنے والے، ایک دن باتوں باتوں میں ان سے اس نہر کا ذکر آگیا۔ میں نے پوچھا آپ کو معلوم ہے چاندنی چوک میں جو نہر تھی، اس میں پانی کہاں سے آتا تھا؟ فرمانے لگے قلعہ سے۔ میں نے کہا کہ قلعہ میں؟ بولے جمنا سے چڑھایا جاتا تھا۔ میں نے کہا حضرت حقیقت یہ ہے۔ (مگر) باور نہ کیا۔ دوسرے دن دوڑے آئے اور فرمانے لگے ہاں تو صحیح کہتا تھا۔ اس سے اندازہ کر لیجیے کہ نوجوان اور آنے والی نسلوں کا بے خبری اور حقیقت فراموشی کا کیا حال ہوگا۔ اس لیے کچھ حال اب اس نہر کا سنیے۔

کوئی سات سو برس ہوئے کہ جلال الدین خلجی صفر آباد کے قریب سے دریا جمن کاٹ کر ایک نہر اپنی شکار گاہ سفیدوں تک لایا۔ فیروز شاہ تغلق نے اس کو بڑھایا اور اس سے آبپاشی کا کام لیا۔ رفتہ رفتہ وہ نہر خراب ہوگئی تو اکبر اعظم کے زمانے میں پھر درست کی گئی۔ شاہجہاں نے دلّی بنانی شروع کی تو علی مردان خاں جو لاہور میں اس سے پہلے نہر لاچکا تھا، مامور ہوا کہ دلّی میں بھی نہر لائے۔ محمد شاہؔ کے زمانے تک پھر نہر از کارِ رفتہ ہوچلی تھی کہ سعادتؔ خاں نے اس کو پھر سنبھالا۔ اسی لیے نہر سعادت خاں کے نام سے مشہور ہوئی۔ اب بھی کہیں اس کا نام لیا جاتا ہے تو اسی نام سے۔

سلسلۂ کلام میں کہنا یہ تھا کہ شاہجہانی نہر اصل میں ایک پرانی نہر تھی مگر شاہجہاں اور اس کے انجینئروں نے یہ ایک عجیب چیز بنائی تھی۔ وہ صرف چاندنی چوک ہی میں نہیں بہتی تھی۔ شہر کے کوچہ کوچہ میں پھیلی ہوئی تھی اور حوالیٔ شہر میں الگ اور چاندنی چوک تک پہنچتے کئی شاخوں میں تقسیم ہوجاتی تھی۔ وہ دلّی کے مغربی سمت کے باغات کو سیراب کرتی ہوئی جب کابلی دروازے کے قریب پہنچی تھی تو جہاں اب بھولو شاہ کا تکیہ ہے، وہاں سے اس کی ایک شاخ تیس ہزاری کی طرف نکل جاتی تھی۔ شاہجہاں کے زمانہ میں یہ جگہ سی ہزاری (باغ) کہلاتی تھی اور جہاں آرا بیگم کی ملک یا جاگیر تھی۔ عالمگیر بادشاہ ہوا تو جہاں آرا کے مرنے پر اس نے یہ باغ اپنی بڑی بیٹی زیب النسا کو دیا۔ دوسری تو وہیں دفن ہوئی۔ عالمگیر کے خطوط میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اس زمانہ کا تیس ہزاری باغ آج کل کے تیس ہزاری میدان سے بہت بڑا تھا۔

نہر کی یہ شاخ کسی وقت موری دروازے اور کشمیری دروازے کے تمام باغات کو سیراب کرتی تھی۔ جب قدسیہ باغ بنا جو کبھی بہت بڑا باغ تھا اور بظاہر کئی طبقوں میں تقسیم تھا اور اسی ہزاری سے جا ملتا تھا، اسی نہر سے سیراب ہوتا تھا۔ اب تک اس باغ میں وہ حوض اور نالیاں موجود ہیں جن کے ذریعہ سے پانی باغ پشت و بلند طبقات میں اِدھر اُدھر کو تقسیم ہوتا تھا۔ اب بھی کم و بیش یہ تقسیم جاری ہے اور اس طرف کے پلے گراونڈ، اسی نہر کی نالیوں سے پانی پاتے ہیں۔

نہر سعادت خاں کی یہ شاخ اگرچہ ایک بڑی شاخ تھی لیکن اصل دھار کابلی دروازہ کو گئی ہے، جنوب کی طرف مڑتی اور صدر کے پل کے نیچے سے ہوتی ہوئی اور اوکھلے کی نہر سے جا ملتی تھی۔ اس میں بڑی بڑی کشتیاں چلتی تھیں اور تجارتی مال (خاص کر عمارتی لکڑیاں پہاڑ کی آئی ہوئی دلّی سے بالا بالا آگرہ) جا پہنچتا تھا۔ یہ راستہ ای آئی آر کے راستہ سے مختصر اور کفایت کا تھا۔ نہر کا یہ ٹکڑا انگریزی عہد میں بنا تھا۔ اب کوئی تیس چالیس برس سے بند ہے اور نہر خراب ہوگئی ہے۔

کابلی دروازہ سے نہر شہر میں داخل ہوتی تو سرائے احمد پائی کے عقب تک کھلی ہوئی بہتی تھی اور گرمیوں میں اس پر بڑی چہل پہل رہتی تھی۔ لوگ اس میں نہاتے دھوتے اور تیرتے تھے۔ نہر کے کنارے ہی پر مندر اورعین نہر کے اوپر مسجد تھی۔ یہ دونوں اب بھی موجود ہیں۔ بیس پچیس برس ہوئے ہوں گے کہ اس نہر کی پتلی سی دھار کو نلوں میں لے کر اس کو اوپر سے پاٹ دیا گیا ہے اور اس پر عمارتیں بن گئی ہیں۔ سینما اور ہوٹل وغیرہ اسی پٹی ہوئی نہر پر کھڑے ہیں۔ سرائے احمد پائی کے عقب سے نہر کی دو شاخیں ہوجاتی تھیں۔ ایک جانب جنوب بہتی ہوئی فتح پوری مسجد میں پہنچتی تھی اور پھر دو شاخوں میں تقسیم ہوکر ایک شاخ حوض قاضی کو بھرتی اور اس طرف کی تمام دلّی کو سیراب کرتی ہوئی میرے خیال میں فیض بازارمیں آنکلتی تھی اور نہرِ فیض کہلاتی تھی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نہرِ فیض قلعہ سے آتی اور فیض بازار سے ہوتی ہوئی موجودہ جیل کی طرف کو نکل جاتی تھی اور اس طرف کے قدیمی باغات کو سیراب کرتی تھی۔ مگر فیض بازار قلعہ سے بلند معلوم ہوتا ہے، اس لیے میرے خیال میں نہر فیض قلعہ اور قلعہ کی خندق میں جا گرتی تھی۔ ہم ابھی کہہ چکے ہیں کہ فتح پوری مسجد سے نہر کی دو شاخیں ہوجاتی تھیں۔ ایک لال کنوئیں ہوتی ہوئی حوض قاضی کو جاتی تھی۔ دوسری چاندنی چوک کی طرف مڑتی تھی، جہاں اب گھنٹہ گھر ہے۔ اس جگہ کبھی چوک اور حوض تھا۔ حوض کو گھنٹہ گھر کیا گیا۔ چوک کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ اسی چوک کی وجہ سے یہ بازار چاندنی چوک کہلاتا ہے۔ خود شاہجہاں نے یہ نام تجویز کیا تھا۔

چاندنی چوک کی نہر بھی شاخ در شاخ ہوکر محلوں میں پہنچتی اور بازار خام اور قلعہ کے نیچے کے باغوں اور خیابانوں کو سیراب کرتی تھی اور اس کی اصل دھار خندق میں جا گرتی تھی۔ دوسری بیگم باغ میں داخل ہوتی تھی۔ تمام باغ میں اس کی نالیاں پھیلی ہوئی تھیں اوراصل نہر بڑھتی ہوئی مور سرائے کے عقب میں، جہاں اب ریلوے کواٹر بن گئے ہیں، جا نکلتی تھی اور وہاں سے کھلی بہتی ہوئی پن چکیوں پر پہنچتی تھی۔ یہ پن چکیاں قلعہ کے پاس اس جگہ تھیں، جسے آج کل سکنی پائنٹ کہتے ہیں۔ اِن پَن چکیوں کو ہم نے بھی چلتے اور آٹا پیستے دیکھا ہے۔

وہاں سے یہ نہر بڑھ کر قلعہ کے خاکریز کے قریب پہنچتی اور آبشار کی صورت میں گرتی تھی اور یہی پھیلا ہوا پانی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ ایک حصہ خندق میں گر جاتا تھا اور ایک حائض کے ذریعہ سے جسے دلّی میں شُتر گلو کہتے ہیں، قلعہ میں داخل ہوتا تھا اور نہر کی صورت میں نمودار ہوکر نہرِ بہشت کہلاتا۔ باغِ حیات بخش وغیرہ کو سیراب کرتا اور ساون بھادوں میں مینہ بن کر برستا تھا اور چونکہ قلعہ میں یہ نہر اور اس کی شاخیں کئی داخل ہوتی تھیں، قلعہ میں مختلف سمت کو پستی و بلندی پر یکساں بہتی نظر آتی تھیں اور دیکھنے والوں کو محوِ حیرت بنا دیتی تھیں۔

غدر کے بعد قلعہ میں یہ نہر اور نالیاں سب اَٹ اَٹا کر نابود ہو گئی تھیں لیکن کارونیشن دربار میں قلعہ کی صفائی ہوئی تو یہ دبی ہوئی چیزیں نکلیں اور معلوم ہوا کہ قلعہ میں نہر کا پانی کس استادی سے تقیسم ہوتا تھا۔ اس پرانی کاریگری کو حال کے انجینئر دیکھتے ہیں اور عش عش کرتے رہ جاتے ہیں۔

(مولانا عبدالرّحمٰن کے قدیم دلّی کی یادگار تاریخ پر ایک مضمون سے اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں