تازہ ترین

پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق امریکا کی رپورٹ مسترد کردی

اسلام آباد: پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی...

وزیراعظم کی راناثنااللہ اور سعد رفیق کو بڑی پیشکش

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے...

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پروٹوکول واپس کر دیا

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے چیف...

کاروباری شخصیت کی وزیراعظم کو بانی پی ٹی آئی سے ہاتھ ملانے کی تجویز

کراچی: وزیراعظم شہباز شریف کو کاروباری شخصیت عارف حبیب...

مراکش میں دنیا کے قدیم ترین کتب خانے کی بحالی

رباط: مراکش کے شہر فیض میں واقع دنیا کے قدیم ترین کتب خانہ ’القروین‘ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

یہ لائبریری 1 ہزار 1 سو 57 سال پرانی ہے اور یہ دنیا کی قدیم ترین اور اب تک فعال جامعہ القروین کا حصہ ہے۔

l8

جامعہ القروین 859 عیسوی میں قائم کی گئی تھی۔ اس لائبریری میں ایک عرصے سے مرمت کا چھوٹا موٹا کام کیا جارہا تھا لیکن 2012 میں مراکشی نژاد کینیڈین ماہر تعمیرات عزیزہ شاونی نے اس کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل یہ لائبریری صرف تعلیمی اداروں اور طلبا کے لیے مختص تھی۔

l5

جامعہ القروین 859 میں ایک تاجر کی بیٹی فاطمہ الفریہ نے قائم کی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب الجبرا کی ابتدائی شکل ایجاد ہوئی۔ لائبریری میں فاطمہ کا اس تعلیمی ادارے سے حاصل کیا جانے والا ڈپلومہ ایک لکڑی کے تختہ پر نصب ہے۔

عزیزہ شاونی نے اس پروجیکٹ پر 4 سال کام کیا جس کے بعد لائبریری میں موجود فوارے اور خطاطی اپنی اصل شکل میں بحال ہوگئے۔ لائبریری کی تعمیر میں پتھروں سے خوبصورت اور منفرد نقش و نگار اور محراب بنائے گئے ہیں۔

l7

لائبریری میں 4000 کے قریب غیر شائع شدہ مسودات موجود ہیں۔ یہاں نویں صدی کے قرآن، جن پر کوفی دور کی خطاطی کی گئی ہے جبکہ حضور اکرم کے حالات زندگی کا قدیم ترین مسودہ بھی موجود ہے۔

l6

لائبریری کے سرپرست عبدالفتح بوگشوف ہیں۔ وہ یہاں موجود تمام کتابوں اور مسودوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں۔

l4

یہاں 14ویں صدی کے شمالی افریقی مؤرخ ابن خلدون کی مشہور تصنیف ’مقدمہ‘، جبکہ اسلام کے قانون نظام کی تشریح کرتا ایک قدیم ترین نسخہ کا اصل مسودہ بھی موجود ہے۔ یہ مسودہ خطاطی کی طرز پر لکھا گیا ہے۔

l3

l2

یہاں کی ایک اور قیمتی کتاب نویں صدی کا ایک قرآن ہے جو اب تک اپنی اصل جلد میں ہے۔

l1

اس لائبریری کو کھولے ہوئے چند ہی دن گزرے ہیں مگر اب تک دنیا بھر سے بے شمار سیاح اور تاریخ کے طالبعلم اس کا دورہ کر چکے ہیں۔

Comments

- Advertisement -