The news is by your side.

Advertisement

یوگا کے دوران لفظ ’اوم‘ پر اعتراض

نئی دہلی: بھارتی حکومت کی جانب سے عالمی یوم یوگا کے موقع پر لفظ ’اوم‘ سے یوگا کا آغاز کرنے کی ہدایت کو مسلمانوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے تاہم متعلقہ وزارت نے وضاحت جاری کی ہے کہ یہ ہدایات لازمی نہیں ہیں۔

بھارت میں اجتماعی یوگا کی بنیاد وزیر اعظم نریندرا مودی نے گزشتہ برس ڈالی تھی۔ ان کے مطابق ان کے اس اقدام کا مقصد بھارت کی قدیم ثقافت کے ایک حصہ کو زندہ کرنا ہے۔

yp-1

یوگا کی فروغ کی ذمہ دار بھارتی وزارت آیوش کے مطابق یوگا کا آغاز مذہبی کلمات سے کرنا چاہیئے تاکہ اس کے فوائد میں اضافہ ہوسکے۔ وزارت کے مطابق یوگا کرنے والوں کو لفظ ’اوم‘ اور قدیم ہندو ویدک کلمات کا استعمال کرنا چاہیئے۔

واضح رہے کہ بھارت 21 جون کو یوگا کے عالمی دن کے موقع پر ایک بڑے اجتماعی یوگا کا انعقاد کرنے جارہا ہے اور اسی دن کے لیے یہ تمام ہدایات دی جارہی ہیں۔

بھارت کے مسلمانوں کی جانب سے ان ہدایات کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اوم‘ کہنا ان کے عقائد کے خلاف ہے۔

yp-2

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ظفریاب جیلانی کا کہنا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور اسے کسی ایک مذہب سے جوڑنا غیر آئینی ہے۔

بھارتی حکومت کو پچھلے سال بھی ایسی ہی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب یوگا کے لیے ’سوریا نمسکار‘ یعنی سورج کے آگے ہاتھ جوڑنے کے اندز کو یوگا کا اہم جز قرار دیا گیا۔

بھارتی اپوزیشن نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یوگا ایک عالمی طور پر کی جانے والی ورزش ہے اور حکومت کے ان اقدامات سے اسے متعصب بنا کر مذہبی اختلافات کو ہوا دی جارہی ہے۔

تاہم وزارت آیوش نے بعد ازاں ایک وضاحت جاری کردی جس کے مطابق یہ ہدایات لازمی نہیں ہیں۔

yp-3

بھارت نے یوگا کے فوائد کو اجاگر کرنے کے لیے اس کا عالمی دن منانے کی درخواست کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے 21 جون کو یوگا کا عالمی دن قرار دیا تھا۔ گزشتہ برس مختلف ممالک میں ہزاروں افراد نے اس دن کو منانے کے لیے سڑکوں پر یوگا کی تھی جس میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون بھی شامل تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں