The news is by your side.

Advertisement

‘عمر ایوب کو پتہ نہیں کون کہتا تھا کہ گردشی قرضہ ختم ہوجائے گا’

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسدعمر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کبھی نہیں کہاکہ دسمبر2020 تک گردشی قرضہ ختم ہوجائےگا مگر عمر ایوب کونہ جانےکون یہ کہتاتھاکہ گردشی قرضہ ختم ہوجائے گا۔

یہ بات انہوں نے کابینہ کی توانائی کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے انرجی سیکٹر پر اہم بریفنگ کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں آتےہی بجلی12روپےمہنگی کرتےتوسرکلرڈیٹ ختم ہوتا، سالانہ 1000 ارب روپےکپیسٹی چارجزکی مدمیں خرچ ہورہےہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ ماضی میں درامدی کوئلےسےبجلی کےمنصوبے لگائےگئے، گزشتہ حکومت نے بجلی کےترسیلی نظام پرتوجہ نہیں دی، پاورسیکٹرنظام سےسرمایہ دار،سیاستدان،افسران فیض یاب ہوئے ہم نے ڈھائی سال میں ترسیلی نظام کے31 منصوبوں کومکمل کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئی پی پیزسےمعاہدو پرنظرثانی سے3سال میں300ارب کاریلیف ملےگا، معاہدوں پرنظرثانی سےبجلی ایک روپیہ40 پیسےفی یونٹ سستی ہوگی 2022میں بجلی 74 پیسے 2023میں66پیسےفی یونٹ سستی ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ کم صلاحیت والےپلانٹس کوبندکرکےبہترپلانٹس چلائیں گے قابل تجدیدتوانائی کےمنصوبوں کاٹیرف ایک تہائی کم کردیاگیاہے، آئی پی پیزکیساتھ معاہدوں پرجلدحتمی پیشرفت ہوگی مشیرخزانہ حفیظ شیخ آئی پی پیزکیساتھ مذاکراتی کمیٹی کےسربراہ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں