The news is by your side.

Advertisement

’ذخیرہ اندوزوں کی کمر توڑیں گے‘ : وفاقی وزیر کا 72 گھنٹوں میں پیٹرول کی قلت ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ 48 سے 72 گھنٹوں کے درمیان پیٹرول اور ڈیزل کی قلت ختم ہوجائے گی، ہم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف جہاد کریں‌ گے اور اُن کی کمر توڑ دیں گے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’پاور پلے‘ میں میزبان ارشد شریف کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود مافیاز اورذخیرہ اندوزوں کےخلاف ہم جہادکررہےہیں، پیٹرول کی قیمت کم ہونے پر کچھ مافیاز کو تکلیف ہوئی۔

اُن کا کہنا تھاکہ ذخیرہ اندوزوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ پیٹرول کی مصنوعی قلت ختم کردیں بصورت دیگر اُن کے خلاف ایکشن ہوگا، ہم بحران پیدا کرنے والوں کی کمر توڑیں گے، اب ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا ہوگا۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ مارچ میں لاک ڈاؤن سے پٹرول کی طلب 57فیصد کم ہوگئی تھی،  جس کے بعد حکومت نے ایک ماہ کے لئے ایندھن کی درآمد بند کی، اپریل کے مہینے میں مختلف کمپنیوں کے پاس اسٹاک موجود تھا، پاکستان اسٹیٹ آئل نے 2 مئی کو ڈیزل کے ذخیرے سے متعلق خط لکھا جو مجھے تاحال موصول نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: مصنوعی بحران کرنے والی آئل کمپنیوں کو لاکھوں روپے جرمانہ

انہوں نے بتایا کہ ’سندھ میں لاک ڈاؤن ہونےسے پٹرول کی طلب میں کمی آئی، وفاق میں بھی ایندھن کی طلب کم ہوئی تھی،  اس دوران ضروری اسٹاک آتا رہا ہے، بعد ازاں 25مارچ سے 25اپریل تک ایندھن کی درآمد بند کی گئی‘۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’مئی کی 28 تاریخ تک ملک میں پیٹرول کی کوئی قلت نہیں تھی، قیمتیں کم ہونے کے بعد مافیا متحرک ہوا، حالیہ بحران کے پیچھے بھی اُسی مافیا کا ہاتھ ہے، ملک بھر میں ڈیزل کی کوئی قلت نہیں ہوئی کیونکہ گزشتہ برس جون کے بعد سے پیٹرول کی طلب میں اضافہ ہوا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ کئی ذخیرہ اندوزوں نے مختلف مقامات پر پیٹرول چھپایا ہوا ہے، میں ایسے لوگوں کو وارننگ دیتا ہوں کہ وہ مصنوعی قلت ختم کردیں، ہم ذخیرہ اندوزوں کی مالی طور پر بھی کمر توڑیں گے اور انہیں بحران کی وجہ سے مال کمانے نہیں دیں گے، ملک میں آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران پیٹرول کی قلت ختم ہوجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں پیٹرولیم منصوعات کا بحران، ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا آغاز

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ’کمرشل استعمال کیلئےایندھن الگ رکھاجاتا ہے جبکہ دفاعی استعمال کے لیے ایندھن کاذخیرہ علیحدہ ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں