The news is by your side.

Advertisement

قریب المرگ خاتون کی آخری خواہش انوکھے انداز سے پوری

انسان کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ وہ مرنے سے پہلے اپنی آخری خواہش کی تکمیل بھی چاہتا ہے جسے اس کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نیدر لینڈز کی ایک قریب المرگ خاتون کی آخری خواہش بھی انوکھے انداز سے پوری ہوئی جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو یقین ہے کہ اب وہ سکون سے اپنی آنکھیں بند کرسکیں گی۔

یہ خاتون نیلی جیکبز ہیں جو پارکنسن کی بیماری کے باعث حرکت کرنے سے معذور ہیں۔ اس بیماری میں اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ بے جان ہوتے جاتے ہیں نتیجتاً مریض حرکت کرنے سے معذور ہوجاتا ہے۔

وہ نیدر لینڈز کے ایک نرسنگ ہوم میں مقیم ہیں جہاں وہیل چیئر ان کی ساتھی ہے اور نرسنگ ہوم کا عملہ ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ نیلی کی آخری خواہش ایک آخری بار گھوڑے پر سواری کرنا ہے۔

horse-5

دراصل زندگی بھر نیلی کا سب سے پسندیدہ مشغلہ گھڑ سواری رہا۔ وہ اپنی نوجوانی میں ایک بہترین گھڑ سوار تھیں اور گھڑ سواری کے کئی مقابلے جیت چکی تھیں۔

horse-4

بڑھتی عمر اور کئی امراض کے باوجود وہ باقاعدگی سے گھڑ سواری کرتی تھیں حتیٰ کہ انہیں پارکنسن کے مرض نے جکڑ لیا اور وہ اپنی جگہ سے حرکت کرنے سے بھی قاصر ہوگئیں۔

تاہم ایک مقامی نجی ادارے نے ان کی آخری خواہش کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس ادارے نے ایک عارضی بیڈ بنایا اور اس پر نیلی کو لٹا دیا۔ یہ بیڈ دو گھوڑوں پر رکھ دیا گیا جسے لے کر گھوڑے کافی دیر تک ٹہلتے رہے۔

horse-1

اس سواری کے لیے خصوصی طور گھوڑوں کے ساتھ ایک پلیٹ فارم بھی نصب کیا گیا تاکہ بیڈ گرنے سے بچا رہے۔

horse-3

ان کے بیٹے جان کا کہنا ہے کہ گھڑ سواری کے دوران ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ گھوڑے کی سواری کے ہر لمحہ سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

horse-2

نیلی اپنی اس خواہش کی تکمیل پر بے حد خوش تھیں۔ وہ بول نہیں سکتی تھیں مگر ان کی آنکھوں کی چمک سے ظاہر ہوتا تھا کہ گھوڑے پر ایک بار پھر ’سوار‘ ہو کر وہ بے حد خوش ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں