کراچی: نگلیریا وائرس سے 1 شخص ہلاک -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: نگلیریا وائرس سے 1 شخص ہلاک

کراچی: کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاؤن میں 30 سالہ زاہد خان نگلیریا وائرس کی بیماری میں مبتلا ہو کر جاں بحق ہو گیا۔

میڈیا کے مطابق شہرقائد میں نگلیریا سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے،30گڈاپ ٹاؤن کے رہائشی 30 سالہ زاہد خان کو شدید بخار کے باعث 4 روز قبل نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں خون کے نمونے لینے پر زاہد خان کے جسم میں نگلیریا کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی تھی جہاں اس کا علاج جاری تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا اور خالق حقیقی سے جا ملا۔

انسداد نگلیریا کمیٹی کے فوکل پرسن ڈاکٹرظفرمہدی نے تصدیق کی ہے کہ زاہد خان کی موت نگلیریا وائرس کے باعث ہوا ہے،عین ممکن ہے کہ زاہد خان نے ایسا پانی پیا ہو گا جسے کلورین سے صاف نہیں کیا گیا تھا،پانی میں کلورین کی مقدار کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے وگرنہ ایسے پانی میں نگلیریا وائرس کی پرورش ہونے لگتی ہے۔

واضح یاد رہے گزشتہ برس کراچی میں 12 افراد پر اسرار طور پر ہلاک ہو گئے تھے جو یا تو کسی سوئمنگ پول میں نہا کر آئے ہوتے تھے یا پھر دوران وضو پانی کے استعمال کے بعد اُن کی حالت غیر ہو گئی تھی،ماہریب کا خیال تھا کہ یہ ہلاکتیں نگلیریا وائرس کے باعث ہوئی تھیں جو پانی میں موجود ہو تا ہے اور ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر مغز کو آہستہ آہستہ چاٹ جاتا ہے۔

تاہم سرکاری سطح پر سوئمنگ پول یا مساجد کے وضو خانے کے لیے استعمال ہونے والے پانی میں نگلیریا کی موجودگی سے سے یکسر انکار کیا گیا تھا تا ہم اب زاہد خان کی ہلاکت سے نگلیریا وائرس کی موجودگی ثابت ہو گئی ہے۔

مزید جانیے: کراچی میں نگلیریا کی دہشت کا راج

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نگلیریا ایک ایسا وائرس ہے، جو ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوکر انسانی مغز کو کھا جاتا ہے، یہ گرم پانی میں تیزی سے پرورش پاتا ہے، اس سے متاثرہ افراد پر سات دن میں علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں جن میں شدید بخار,ناک میں سوزش اور سر میں درد پہلی علامت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں