The news is by your side.

Advertisement

دنیا بھر میں بچے آن لائن کلاسز کیسے لے رہے ہیں؟ دلچسپ تصاویر

کورونا وائرس کی عالمی وبا سے جہاں بہت سے شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے ہیں وہیں بچوں کی تعلیم پر بھی بہت برا  اثر پڑا ہے تاہم اس کے سدباب کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

دنیا بھر کے تعلیمی اداروں اور ان سے منسلک طلباء طالبات، والدین اور اساتذہ کو کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے باعث ہر بار انتہائی تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کئی ماہ پر مشتمل اسکولوں کی طویل ترین بندش میں طلبہ گھروں پر محصور ہوکر رہ گئے اور اپنی تعلیم پر سمجھوتہ کرلیا۔ اس دوران طلبہ، والدین، اساتذہ اور اسکولوں کی انتظامیہ کو درپیش مراحل کے دوران مالی مشکلات بھی جھیلنا پڑیں۔

وبا میں شدت آنے کے بعد دنیا بھر میں بچوں کی آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ کچھ ممالک میں اسکول جزوی طور پر کھل گئے ہیں لیکن بہت سے ملکوں میں ابھی تک آن لائن کلاسز منعقد ہو رہی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ ان حالات میں کیسے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شمالی اٹلی میں 10 برس کی فیامیتا اپنی بکریوں کے ریوڑ کے درمیان بیٹھی آن لائن کلاس لے رہی ہے۔

امریکہ کے شہر چیلسیا میں ٹیچر جیسیکا کرین آن لائن کلاس کے دوران فرسٹ گریڈ کے بچوں کو خوش آمدید کہہ رہی ہیں۔

چین کے صوبے ہوبی میں کلاسز شروع ہونے کے بعد ٹیچر اپنے سٹوڈنٹس کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہی ہیں۔

آسٹریا کے ایک پرائمری سکول میں ماسک پہنے ایک بچی داخل ہونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو سینیٹائز کر رہی ہے۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں سکول کھلنے بعد ایک پرائمری سکول میں ٹیچر اور سٹوڈنٹ کو ماسک پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔

ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرز میں سکول کھلنے کے بعد پروفیسر گاستن سیانو طلبہ کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

سربیا کے ایک پرائمری سکول میں اپنی پہلی کلاس کے دوران بچے ماسک پہنے بیٹھے ہیں۔

تھائی لینڈ کے ایک سکول میں پرانے بیلٹ باکس کو بطور حفاظتی شیلد استعمال کرتے ہوئے طلبا ماسک پہنے بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسکولوں کی بندش ان کے دوبارہ کھلنے اور ایک بار پھر بند ہونے کے حوالے سے والدین کے تجربات بھی انتہائی تلخ ہیں۔

کچھ والدین کہتے ہیں کہ ان کے تین بچے ہیں، کچھ کہتے ہیں ان کے چار بچے ہیں، سب اسکول جاتے ہیں گھر میں ایک اسمارٹ فون ہے، سب بچوں کی کلاسز ایک ہی وقت پر ہوتی ہیں ہم کس بچے کو پڑھائیں؟ اور کس کی تعلیم پر سمجھوتہ کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلے صرف اسکول کی فیس دیتے تھے اب انٹرنیٹ کے اخراجات بھی علیحدہ ہیں، پہلے سات ماہ تک یہ اخراجات برداشت کیے اب پھراسی مشکل میں الجھ گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں