The news is by your side.

شہری ہوشیار : کمیٹیوں میں دھوکہ دہی عام ہونے لگی

کراچی : ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ گھر کے بڑوں نے محلے یا دفتر کے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر اپنی ماہانہ آمدنی سے کچھ رقم بچا کر کمیٹی ڈال رکھی ہوتی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے۔

عام طور پر سب سے پہلی کمیٹی باہمی رضامندی سے ایسے شخص کو دی جاتی ہے جو یا تو کمیٹی کا منتظم ہو یا پھر کوئی ایسا شخص جسے فوری طور پر کسی بنا پر رقم کی ضرورت ہو۔

لیکن موجودہ دور میں کمیٹیوں کے نام پر فراڈ بہت عام ہونے لگا ہے، لہٰذا کمیٹی دیکھ بھال کر ڈالیں ورنہ اپنی جمع پونجی سے محروم ہونا پڑے گا۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ماہر قانون امداد حسین نے خصوصی گفتگو کی اور ناظرین کو اس کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی ڈالنے کے اس نظام کو انگلش میں روٹیٹنگ سیونگز اینڈ کریڈٹ ایسوسی ایشن (روسکا) کہا جاتا ہے، جو ہم عام طور پر اپنے جاننے والوں کے ساتھ ڈالتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کمیٹی میں فراڈ ہوجائے تو اس کیخلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے لیکن آن لائن کمیٹی ڈالنے میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں اس میں فراڈ کے زیادہ امکانات ہیں۔

آن لائن کمیٹیاں ڈالنے والوں کو چاہیے کہ اس کی کاغذی کارروائی لازمی کریں تاکہ کسی دھوکہ دہی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جاسکے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں میڈیا میں ایک کمیٹی میں کیے جانے والے فراڈ کا بہت چرچا ہے جس میں مبینہ طور پر سینکڑوں خواتین کے کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک خاتون سدرہ حمید کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اُنہوں نے ایک سو سے زائد کمیٹیوں میں بدانتظامی کی ہے جس کے بعد وہ ان میں حصہ لینے والے لوگوں کو ان کی رقوم واپس کرنے سے قاصر ہیں۔

سدرہ نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں اس بات کی تو تصدیق کی ہے کہ وہ فوری طور پر رقوم ادا کرنے سے قاصر ہیں تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ رقم لے کر فرار نہیں ہو رہیں بلکہ تمام لوگوں کو ان کے پیسے واپس ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں