لکھنؤ (17 ستمبر 2025): اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں چھٹی جماعت کے ایک طالب علم نے آن لائن گیمز میں 13 لاکھ روپے گنوانے کے بعد باپ کے ڈر سے اپنی جان لے لی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کی رات اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے، ایک 14 سالہ لڑکے یش کمار نے اس وقت خود کشی کر لی جب وہ ایک آئن لائن گیم میں اپنے والد کے تیرہ لاکھ روپے گنوا بیٹھا، باپ کو بھنک لگنے کے بعد اس نے پریشان ہو کر پھندا لگا کر اپنی جان لے لی۔
اہل خانہ اسے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی موہن لال گنج تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور بچے کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ بچے کے موبائل فون میں کوئی گیم ڈیٹا نہیں ملا، یا تو اس نے خود ڈیٹا ڈلیٹ کر دیا تھا یا پھر کسی اور نے ایسا کیا۔

بچے کے والد کا کہنا تھا کہ کہ 2 سال قبل انھوں نے کچھ زمین بیچ کر یونین بینک کی شاخ میں 13 لاکھ روپے جمع کرائے تھے، یہ رقم انھوں نے گھر کی تعمیر کے لیے رکھے تھے۔
ٹیچر کے تشدد سے چھٹی جماعت کی طالبہ کی کھوپڑی میں فریکچر ہو گیا
دھنواسر گاؤں کے رہائشی بچے کے والد سریش کمار یادو نے بتایا کہ ان کا یونین بینک بجنور برانچ میں بینک اکاؤنٹ ہے، پیر کو جب وہ اپنی پاس بک اپ ڈیٹ کرنے بینک گیا تو انھیں پتا چلا کہ اکاؤنٹ میں 13 لاکھ روپے کم ہیں، بینک منیجر سے معلوم ہوا کہ رقم آن لائن گیمز کے ذریعے کاٹی گئی ہے۔
سریش کمار نے گھر پہنچ کر بیٹے سے رقم کے بارے میں پوچھا تو اس نے کچھ دیر بعد قبول کر لیا کہ اس نے ایک آئن لائن گیم کے دوران یہ رقم کھوئی، باپ نے اس پر خفگی کا اظہار کیا تاہم نصیحت کہ وہ آن لائن گیم نہ کھیلے۔ رپورٹ کے مطابق بچے نے رات کو اپنے کمرے میں خود کشی کر لی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


