اوپن اے آئی اسپیس ایکس کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے قیمتی اسٹارٹ اپ بن گیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی نے حالیہ شیئر سیل کے بعد 500 بلین ڈالر کی ویلیو حاصل کی ہے۔
سنگ میل کے بعد اوپن اے آئی موجودہ و سابق ملازمین نے 6.6 بلین ڈالرز کے شیئرز فروخت کیے، سال کے آغاز میں اوپن اے آئی کی ویلیو 300 بلین ڈالر جبکہ اسپیس ایکس کی 400 بلین ڈالر تھی۔
یہ پڑھیں: اوپن اے آئی کے سربراہ نے پوڈ کاسٹ میں چیٹ جی پی ٹی کے حوالے سے ہولناک بات کا اعتراف کر لیا
حالیہ ٹرانزیکشن کے بعد اوپن اے آئی کی ویلیو 500 بلین ڈالرز سے تجاوز کر گئی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایک پوڈ کاسٹ میں اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین نے صارفین کو خبردار کیا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی کو تھراپسٹ کے طور پر استعمال کرنے کی صورت میں کوئی قانونی رازداری حاصل نہیں ہوتی۔
اس سوال کے جواب میں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس جدید لیگل سسٹم کے ساتھ کیسے کام کرتا ہے؟ آلٹمین نے یہ تشویش ناک بات بتائی تھی کہ اے آئی کے لیے ابھی تک کوئی قانونی یا پالیسی فریم ورک تیار نہیں کیا جا سکا ہے، جس کی وجہ کئی مسائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صارفین اس پر جو بھی گفتگو کرتے ہیں اس کی کوئی قانونی گارنٹی نہیں کہ اسے خفیہ رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔
آلٹمین نے کہا تھا کہ جس طرح مریض ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور اپنے مسائل بتاتے ہیں تو قانون ان کو یقین دلاتا ہے کہ ڈاکٹر ان کے رازوں کی پاس داری کرنے کے پابند رہیں گے، اس طرح چیٹ جی پی ٹی ایسی کسی قانونی پابندی کے دائرے میں نہیں آتی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


