The news is by your side.

Advertisement

آپریشن ضرب عضب ختم نہیں ہوا،‘کام ابھی باقی ہے: عاصم باجوہ

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹرجنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا آپریشن ضرب عضب کےدوسال مکمل ہونے کے حوالے سے کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب ختم نہیں ہوا، متاثرین کی بحالی کا کام جاری ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آرعاصم باجوہ نے بتایا کہ 15 جون 2014 کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے فاٹا کی ایجنسی شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا ک آپریشن کے آغاز سے قبل ہم نے افغانستان کو ہر طریقے سے آگاہ کیا تھا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کے افغانستان جانے کے امکانات ہیں، لہذا وہ ان کے خلاف کارروائی کریں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا اور خیبر ایجنسی سے دہشت گرد افغانستان چلے گئے، جس کے بعدآپریشن خیبرون اورخیبر ٹو کا آغاز کیا گیا۔

آپریشن ضرب عضب

لیفٹینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے پہلے مرحلے میں 36 سو اسکوائر کلومیٹرکاعلاقہ کلیئرکرایا گیا،

آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گرد خیبر ایجنسی چلے گئے جس کے سبب آپریشن خیبر1 اور2 کا آغاز کیا گیا جس کے نیتجے میں3500 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جبکہ ان کے 992 ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ دہشت گردوں سے 253 ٹن سے زائد بارود برآمد کیا گیا، گولہ بارود اور ایمونیشن بنانے واکے 7599 فیکٹریاں تباہ کی گئیں جبکہ 2841 بارودی سرنگیں اور 35310راکٹ لانچ اور مارٹر گولے برآمد کیے گئے۔

آپریشن کے دوران پاک فوج کے 490 افسران اورجوان شہید ہوئے جن میں سے 108 نے شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کیا، جبکہ 385 سپاہی زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فاٹا اور سوات میں آپریشن ہوچکا ہے اور ریاست کی رِٹ قائم ہوچکی ہے، حالات بہت بہتر ہیں، جو آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی جانب جائیں گی۔

عاصم باجوہ نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل بارڈر ہے جس میں سے ساڑھے 13 سو کلومیٹر کا سرحدی علاقہ خیبر پختونخوا میں ہے، جہاں 8 باقاعدہ کراسنگ پوائنٹس ہیں اور اس کے علاوہ بھی بے شمار پوائنٹس ہیں، جن کا انتظام ایک مشکل کام ہے جس کے لیے بارڈر مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جارہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کومبنگ آپریشنز جاری ہیں اوران کے تحت اُن علاقوں تک بھی رسائی حاصل کی جارہی ہے جو نو گو ایریاز تصور ہوتے تھے، تاکہ ہماری زمین کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔

یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان، خیبر ایجنسی اوراورکزئی ایجنسی سمیت سات ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے گزشتہ برس جون میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا۔

جبکہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے کے بعد بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی آگئی ہے۔

انٹلی جنس آپریشن

ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان سے گرفتار ہونے والے دہشت گردوں سے معلومات حاصل کی گئی جن کی روشنی میں پورے ملک میں آپریشنوں کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ہوا۔

ان کا کہناتھا کہ پاکستان کے طول و عرض میں 19 ہزار سے زائد انٹلی جنس معلومات کی روشنی میں آپریشن کیے گئے جن میں ملک کے طول وعرض میں بیٹھے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائیاں کی گئیں اوران کی دہشت گردی کے واقعات کرنے کی استعداد کو ختم کیا گیا ۔

کراچی آپریشن

ڈی جی آئی ایس پی آرعاصم سلیم باجوہ نے کراچی آپریشن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی آپریشن کے ثمرات پراصل تبصرہ اہلیانِ کراچی ہی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب آپریشن شروع کیا تھا تو اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ یہ آپریشن بغیرتفریق ہوں گے اوریہ کام ابھی جاری ہے اوربلا تفریق جاری رہیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی میں1200 سے زائد دہشت گرد پکڑے یا مارے گئے، جس سے ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اوربھتہ خوری کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

طورخم بارڈر

افغانستان کے ساتھ جاری سرحدی تنازعے پر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج میں ہر شخص کی اپنی ایک ذمہ داری ہے جب ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو بارڈر پر تعینات جوان احکامات کا انتظار نہیں کرتے بلکہ ضوابی فائر کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کے اس پار سے جب کبھی ایسا ہوگا اس کا بھرپور جواب ضرور دیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دنیا بھرمیں ایسے واقعات کا حل سیزفائر ہوتا ہے اور یہاں بھی یہی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈرپر جانچ پڑتال کا کوئی نظام نہیں تھا اورچارسدہ یونیورسٹی حملے میں ملوث دہشت گرد بھی اسی بارڈر سے پاکستان آئے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزات کی چیکنگ اورتصدیق کےبغیربارڈرسےکسی قسم کی نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک افغان سرحدی چیک پوسٹ پر نقل و حمل کرنے والوں کی انتہائی سخت نگرانی کی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں