The news is by your side.

Advertisement

جرمنی میں سیاسی پناہ سے متعلق تیار کردہ نیا منصوبہ تاخیر کا شکار

برلن : جرمنی کے وزیر داخلہ کی جانب سے مائیگریشن قوانین سے متعلق تیار کیا گیا نیا منصوبہ انجیلا مرکل اور ہورسٹ زیہوفر میں اختلاف کے باعث تاخیر کا شکار ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملک جرمنی میں ایک روز قبل تارکین وطن کی سیاسی پناہ سے متعلق نیا منصوبہ پیش کیا جانا تھا جسے آخری اوقات میں پیش کرنے سے روک دیا گیا۔

غیر ملکی خب رساں ادارے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کی جانب سے تیار کردہ نئے منصوبے کے مؤخر ہونے کا باعث ہورسٹ زیہوفر اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے اختلافات کو قرار دے رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ملک کے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر جرمنی کی قدامت پسند جماعت سی ایس یو کے سربراہ ہیں، جنہوں نے ’مائیگریشن کے حوالے سے نیا ماسٹر پلان‘ تیار کیا تھا جسے تاحال مؤخر کردیا گیا ہے۔

جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر مائیگریشن کے منصوبے کو پیش نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کر پائے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ نئے مسودے میں کچھ سطروں پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے، لہذا ان پر کام کرنا باقی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ قدامت پسند وزیر داخلہ کی جانب سے جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے 63 نکات پر منبی نیا مسودہ انجیلا مرکل نے منظور کرنا ہے جس کے بعد اسے پارلیمنٹ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

جرمن میڈیا کے مطابق ہورسٹ زیہوفر اور انجیلا مرکل کے درمیان مذکورہ نکتے پر اختلاف ہوا ہے کہ’کوئی بھی تارک وطن جرمنی کےلیے علاوہ کسی اور یورپی ملک میں پناہ کی درخواست دے چکا ہو، تو اسے جرمنی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جرمنی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور شہریوں کی سیکیورٹی کا ذمہ دار ی میرے اوپر ہے، مائیگریشن پلان کو مزید تاخیر کا شکار نہیں ہونے دوں گا‘۔

ہورسٹ زیہوفر کا کہنا تھا کہ ’جرمن عوام کا اعتماد دوبارہ بحال کرنے کے لیے مہاجرین کی سیاسی پناہ سے متعلق قوانین کا ازسر نو جائزہ لینے  اور ترتیب دینے کی ضرورت ہے‘۔

خیال رہے کہ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کی حکمران جماعت سی ڈی یو اور سی ایس یو کے اتحاد کے ساتھ حکومت کررہی ہیں اور انجیلا مرکل کی اتحادی جماعت سی ایس یو تارکین وطن سے متعلق سخت قانون ترتیب دینا چاہتی ہے۔

دوسری جانب جرمن چانسلر کی دوسری اتحادی جماعت ایس پی ڈی کی جانب سے ہورسٹ زیہوفر کے تیار کردہ نئے مسودے کو ’تباہ کن‘ قرار دیتے ہوئے مائیگریشن قوانین سے متعلق نیا مسودہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں