The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن کا ہارس ٹریڈنگ کا الزام، اگلے ہفتے اے پی سی بلانے کا اعلان

اسلام آباد: سینیٹ میں چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے 14 اراکین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج اپوزیشن رہنماؤں کا قاید حزب اختلاف شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر غور کیا گیا، بعد ازاں پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ اگلے ہفتے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی۔

اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، میر حاصل بزنجو، مولانا اسد محمود، میاں افتخار حسین، خورشید شاہ اور شیری رحمان نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں اپوزیشن لیڈر نے کہا سینیٹ کے آیندہ اجلاس میں ہارس ٹریڈنگ کو بے نقاب کریں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک پیش کی تو 64 ارکان نے حمایت کی، لیکن 30 منٹ بعد خفیہ ووٹنگ میں 14 ووٹ کھسک گئے، ماضی کی تاریخ پھر دہرائی گئی، ضمیر بیچنے والوں نے جمہوریت کو کم زور کیا، اور حکومت بھی عوام کے سامنے شرمندہ ہو گئی ہے۔

تازہ ترین خبریں پڑھیں:  چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام

انھوں نے کہا کہ نظام کم زور کرنے والوں کی وقت آنے پر نشان دہی کریں گے، اگلے ہفتے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی، جس میں اپوزیشن کی آج کی میٹنگ کے آپشنز پر غور کیا جائے گا، اے پی سی میں جو فیصلے ہوں گے وہ قوم کے سامنے لائیں گے۔

دریں اثنا، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام دشمن حکومت کے حملے جاری ہیں، ایک طرف عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے، دوسری طرف سینیٹ میں آج کھلے عام حملہ ہوا، خفیہ ووٹنگ میں 50 سینیٹرز نے جعلی چیئرمین کو ووٹ دیا، کس کس نے ضمیر بیچا ہم اس کا حساب لیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جس نے پارٹی اور جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے، اے پی سی بلا رہے ہیں، یہ لڑائی سینیٹ میں لڑیں گے، سینیٹ میں صاف و شفاف الیکشن کی بات کریں گے۔

انھوں نے اپنا پرانا مؤقف دہرایا کہ سڑکوں اور پارلیمان میں اپنی جدوجہد جاری رکھی جائے گی، آج ہم ہار کر بھی ان سب کے چہرے سامنے لے آئے ہیں، آج جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں، حاصل بزنجو کو سلام پیش کرتا ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں