The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن اراکین کی حکومتی بجٹ پر سخت تنقید

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے محکمہ زراعت نہیں بلکہ زرعی صنعت کو ریلیف فراہم کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہونے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی کارکردگی اور بجٹ پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف تو حکومت اکثر چیزیں باہر سے درآمد کررہی ہے مگر دوسری طرف ترقی کے دعوے کیے جارہے ہیں، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

حکومت اجلاس کے دوران ایوان کے اراکین کی بات نہیں سنتی اسی وجہ سے ایوان کے اراکین کی جانب سے مایوسی اور اجلاسوں میں عدم حاضری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، حکومت کے لیے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا مالی بجٹ تاریخ میں کبھی پیش نہیں کیا گیا مگر حکومت مردم شماری کروانے میں ناکام رہی ہے تو ایسے بجٹ کو صرف مفروضے کے طور پر شمار کیا جاسکتا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی تقریر میں کرپشن کے خاتمے یا تحقیقات کے لیے ایک لفظ تک ادا نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کے باوجود سرمایہ کاری نہ ہونا حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، موجودہ حکومت نے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں کچھ زیادہ ہی قرضے حاصل کرلیے ہیں۔

مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے پیش ہونے والا بجٹ تاجروں کے حق میں نہیں ہے، ملازمین، محنت کشوں، تاجروں اور دیگر شعبوں کو نئے بجٹ میں ٹیکس عائد کر کے ظلم کیا گیا ہے، ہمارے دورِ حکومت میں پنجاب کے زرعی ٹیوب ویل پر 50 فیصد رعایت تھی۔

اس ضمن میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ  ’’ یہ موجودہ حکومت کا آخری بجٹ ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں