The news is by your side.

Advertisement

عمران خان نے فرسٹریشن میں آ کردھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ،خورشید شاہ

اسلام آباد : قائد حزب اختلاف اور پیپلز پا رٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان فرسٹریشن میں آ کردھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا،عدالت کا بھی امتحان ہے پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا تھا اب دیکھتے ہیں وزیراعظم نواز شریف کے متعلق عدالت کیا فیصلہ سناتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اسلام آباد لاک ڈاؤن سے یوم تشکر منانے پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سکھر میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےپیپلزپارٹی کے رہنما اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پہلے ڈٹے کے رہنے بہت دعوے کئے تھے لیکن بعد میں انہیں فرسٹریشن ہوئی اور دھرنے کا فیصلہ واپس لے لیا، عمران خان نے ایسا بے رحمانہ فیصلہ کیوں کیا یہ تو وہی جانتے ہیں۔

سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان فرسٹریشن میں میرے اور پارٹی کے خلاف بات کر رہا ہے، عمران خان کی ان پر تنقید کا وہ جواب نہیں دینا چاہتے، انہوں نے مجھے اور پارٹی کو جو کچھ کہا اس پر انہیں معاف کرتے ہیں۔


مزید پڑھیں : عمران خان کی پالیسیاں حکومت کو اورمضبوط کررہی ہیں، خورشید شاہ


ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی امپائر کی انگلی اٹھانے کی بات نے آرمی چیف کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا تھا، لوگ ان کے متعلق سوال کرتے ہیں وہ لوگ مر نہیں جاتے جو عوام کے بجائے امپائر کی انگلی اٹھنے کی بات کرتے ہیں میں تو ایسی باتیں سن کر کانپ جاتا ہوں۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آرمی چیف معزز ہیں، وہ مدت ملازمت میں خد توسیع نہیں چاہتے، نئے آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر اور سینئر ترین جنرل کو نیا آرمی چیف مقرر کردینا چاہیے۔


مزید پڑھیں : وزیراعظم اورعمران خان جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں،خورشید شاہ


پاناما کیس کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں شواہد کٹھے ہونگے کیس طوالت بھی پکڑ سکتا ہے، عدالت کا بھی امتحان ہے پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا تھا اب دیکھتے ہیں وزیراعظم نواز شریف کے متعلق عدالت کیا فیصلہ سناتی ہے، جب سیاستدان گو گو کے نعرے لگاتے ہیں تو خود پارلیمنٹ سے باہر چلے جاتے ہیں پارلیمنٹ میں میری تقریر نواز شریف کو نہیں، پارلیمنٹ کو بچانے لیئے تھی۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ سال دوہزار چودہ میں ہم نے پارلیمنٹ میں جمہوریت کی بات کی تھی اور اب بھی جمہوریت کی بقا کیلئے کو شاں ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں