صدارتی الیکشن کے بعد بھی حزب اختلاف کا اختلاف برقرار، ایک دوسرے پر الزام تراشی
The news is by your side.

Advertisement

صدارتی الیکشن کے بعد بھی حزب اختلاف کا اختلاف برقرار، ایک دوسرے پر الزام تراشی

کراچی: صدارتی انتخابات میں مشترکہ امیدوار سے متعلق حزب اختلاف کا اختلاف الیکشن کے بعد بھی برقرار رہا، چوہدری منظور اور جاوید لطیف ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں رہنما پی پی چوہدری منظور اور لیگی رہنما جاوید لطیف نے مشترکہ امیدوار پر اتفاق نہ ہونے کی ذمے داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہوئے کئی انکشافات کیے۔

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے دیا گیا کردار نبھایا، صدارتی انتخاب پر پالیسی سازوں کومبارکباد دیتا ہوں، ن لیگ متحدہ اپوزیشن میں طے ہونے والے فارمولے پر قائم رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ مری کے اجلاس میں نام طے ہوا تھا، پیپلزپارٹی نے ایک اور درخواست دی، پیپلزپارٹی نے کہا اعتزاز کے سوا دو اور نام دیں گے، مولانافضل الرحمان نے شہبازشریف سے کہا تھا کہ آصف زرداری سے فون پر بات کرلیں وہ راضی ہوجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

صدارتی انتخاب 2018: عارف علوی تیرہویں صدر پاکستان منتخب ہوگئے

دوسری جانب رہنما پی پی چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے اعتزاز احسن کو اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار ماننے سے انکار کردیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی پہلے سے اپوزیشن میں بیٹھی ہے ن لیگ بڑی مدت کے بعد آئی ہے، کل یہ کہہ رہے تھے ہم فرینڈلی اپوزیشن ہیں لیکن راناثنااللہ کہتے ہیں ہم سہولت کار ہیں، ن لیگ ٹوٹ رہی ہے یہ اپنی پارٹی کو نہیں سنبھال پارہے۔

واضح رہے کہ آج ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار عارف علوی پی پی کے اعتزاز احسن اور اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمان کو شکست دیتے ہوئے تیرہویں صدرِ مملکت منتخب ہوگئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں