The news is by your side.

نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریرعدلیہ پر حملہ ہیں: جڑانوالہ جلسے پر اپوزیشن کا ردعمل

لاہور: میاں نوازشریف کے جڑانوالہ جلسے پر اپوزیشن پارٹیوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے، مختلف سیاسی شخصیات اور ماہرین قانون کی جانب سے نواز شریف اور مریم نواز کی تقریر کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا جارہا ہے.

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ میں‌ نوازشریف اورمریم نواز نے توہین عدالت کی، نوازشریف اورمریم نواز نے براہ راست عدلیہ کوٹارگٹ کیا، ججز پر تنقید کی  اور عدلیہ پر حملے کیے.

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی ن لیگ کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انھیں سزا ہونے والی ہے، اسی لیے وہ عدلیہ اور فوج کو نشانہ بنارہے ہیں.انھوں‌ نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے، تاکہ سزا سے بچ سکے.

توہین عدالت کی سزا ہے، مگر ووٹ کی توہین کی کوئی سزا نہیں؟ مریم نواز

پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی اس جلسے پر سخت موقف سامنے آیا ہے. پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ نوزشریف اپنے سیاسی انجام کا بندوبست خود کر رہے ہیں۔ عدلیہ اور اداروں سے تصادم نوازشریف کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف میں اختلاف کھل کر سامنے آچکا ہے، نوازشریف جلسوں میں خود کو وزیراعظم کہتے ہیں۔

جڑانوالہ کہہ رہا ہے کہ ہم ججوں کا فیصلہ نہیں مانتے: نوازشریف

ماہرین قانون نے بھی اس ضمن میں‌ دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے. بیرسٹر فروغ نسیم نے نواز شریف اور مریم نواز کے اقدام کو توہین عدالت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب توپانی سر سے اوپرہوگیا ہے، ججز پراب براہ راست تنقید کی گئی ہے، عدلیہ نے بہت صبراورتحمل کامظاہرہ کیا، لیکن اب حد ہوگئی ہے، اگر قانون میں ترمیم کرکے بحال کردیا گیا، تب نواز شریف توہین عدالت پردوبارہ نااہل ہوسکتے ہیں.


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں