The news is by your side.

Advertisement

کسانوں پر تشدد: اپوزیشن کا بجٹ سیشن سے علامتی بائیکاٹ

اسلام آباد: بجٹ پیش ہونے سے قبل اپوزیشن لیڈر نے کسانوں پر ہونے والے تشدد پر بجٹ سیشن سے بائیکاٹ کا اعلان کیا جس پر اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایوان سے باہر چلی گئیں تاہم حکومتی اراکین کے منانے پر اپوزیشن نے علامتی بائیکاٹ ختم کردیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں وفاقی بجٹ وزیر خزانہ اسحق ڈار پیش کیا، اس موقع پر ایوان میں وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام ارکان اسمبلی موجود تھے۔ یہ ن لیگی حکومت کا پانچواں اور آخری بجٹ ہے۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولﷺ سے شروع ہوا،نعت ختم ہوتے ہی چند ارکان نے بات کرنے کی کوشش کی تاہم اسپیکر نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ یہ ملکی روایت کے بر خلاف ہے اور اگر یہ کام آج ہوا تو آئندہ روایت پڑ جائے گی، درخواست ہے سب بیٹھ جائیں، بجٹ کے بعد بات کریں۔

پڑھیں: بجٹ سیشن کے لیے اپوزیشن کی جارحانہ حکمت عملی تیار

اسحق ڈار نے اسپیکر سے درخواست کی کہ صرف اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے دی جائے وہ چند منٹ بات کریں گے بقیہ دیگر نہیں، ان کے بصد اصرار پر اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو چند جملوں کی اجازت دی۔

خورشید شاہ نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کسانوں پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور حکومتی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کسان ریڈزون سے بھی باہر تھے مگران پرتشدد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مطالبات پورے ملک کے لیے ہیں، ان کے پورا کرنے میں کسی ایک کسان کا فائدہ نہیں، کسانوں نے جی ایس ٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا، ہمارے دورِ حکومت میں بھی کسان احتجاج کے لیے آتے تھے مگر پیپلزپارٹی نے کبھی اُن پر تشدد نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ نے بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اب یہ رواج پڑ گیا کہ جو بھی ڈی چوک آئے اُس کے خلاف ریاستی مشینری کا استعمال کیا جائے اور تشدد کیا جائے، اگر حکومت کو یہی سب کرنا ہے تو جمہوری حکومت اور آمریت میں موئی فرق نہیں رہے گا، عوام نے قربانیاں اس لیے نہیں دیں کہ کمزوروں پر جبر و ظلم کیا جاتا ہے، کسانوں پر تشدد کے معاملے پر اجلاس سے واکس آؤٹ کریں گے۔

کسانوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے اپوزیشن ارکین بجٹ اجلاس میں بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے ہیں۔ اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کردیا جس میں تمام اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں، ارکان ایوان سے باہر چلے گئے اور انہوں نے بجٹ دستاویز پھاڑ دیں، حکومتی ارکان انہیں منایا تو تمام اراکین واپس ایوان میں واپس آگئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں