site
stats
پاکستان

قومی اسمبلی کا اجلاس: فاٹا اصلاحات پیش نہ کرنےپر اپوزیشن کا واک آؤٹ

FATA Reforms

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پراپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد کورم نہ پورا نہ ہونے پر اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکرسردار ایازصادق کی زیرصدارت شروع ہوا تو حکومت کی جانب سے آج بھی فاٹا اصلاحات بل ایوان میں پیش نہ کیا جاسکا۔

قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے فاٹا اصلاحات بل پیش نہ کرنے پراپوزیشن نے اسمبلی کارروائی سے واک آؤٹ کیا جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورانہ ہونے پر ملتوی کردیا گیا۔

ایوان میں پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ روزانہ امید ہوتی ہے فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے میں ہوگا جب تک فاٹا اصلاحات بل نہیں لایا جاتا اجلاس کا فائدہ نہیں۔

نوید قمر نے کہا کہ حکومت فاٹا اصلاحات پرسنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی، بدقسمتی سے سیاسی مفاد کے لیے لوگوں کی امیدوں سے کھیلا جا رہا ہے۔

پیپلزپارٹی کے رکن قوم اسمبلی نے کہا کہ قومی خزانے سے بھاری رقم ایوان پرخرچ ہوتی ہے لیکن کچھ حاصل نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاسی مجبوریوں کے باعث بل کوایجنڈے سے نکالا۔

دوسری جانب اپوزیشن کے واک آؤٹ پر وزیرسفیران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ یہ بل حکومت کا ہے ہم ہرصورت اس کوپیش کریں گے، اس بل پر مزید مشاورت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ پورے پاکستان کا ہے، جلد بازی کا فائدہ نہیں ہے، چاہتے ہیں ایسی قانون سازی ہوجس پرسب متفق ہوں۔

عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ 25 نکات میں صرف ایک نکتے کا مسئلہ ہے، معاملہ عدالتوں کے دائرہ اختیار پر ڈیڈلاک کا شکار ہے۔

وزیرسفیران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ جولوگ واک آؤٹ کررہے ہیں انہوں نے اپنے دورمیں کوئی اقدامات نہیں کیے۔


فاٹا بل پیش نہ ہونےپراپوزیشن کا واک آؤٹ، اسپیکر کی سیکریٹری فاٹا پربرہمی


یاد رہے کہ گزشتہ روز اسمبلی میں فاٹا بل نہ لانے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ایوان میں بیٹھنے سے بہتر ہے، ہم لابی میں بیٹھیں، اس کے بعد پوری اپوزیشن نے واک آئوٹ کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top