The news is by your side.

Advertisement

متحدہ اپوزیشن کا وزیرِاعظم کی غیر حاضری پر مسلسل چوتھے روز اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ

اسلام آباد: وزیرِاعظم کی غیر حاضری پر متحدہ اپوزیشن نے آج مسلسل چوتھے روز متحدہ اپوزیشن نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا،اپوزیشن وزیر اعظم سے اپنے 7 سوالات کے جوابات اسمبلی میں آ کر دینے کا مطالبہ کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے بعد بیان دیا تھا کہ وزیرِاعظم نواز شریف جمعہ کے روز اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے،وزیرِ اعظم کی متوقع آمد کے پیشِ نظر متحدہ اپوزیشن نے میڈیا کے سامنے پانامہ پیپرز پر وزیرِ اعظم کے لیے 7 سوالات رکھ دیے تھے،اور وزیر اعظم سے ان سوالات پہ تیاری کر کے آنے کی درخواست کی تھی،تاہم آج بھی وزیرِ اعظم اسمبلی میں نہیں آئے جس پر متحدہ اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

اسمبلی سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سیاست میں ماں کا درجہ رکھتی ہے،لیکن وزیرِ اعظم اس ماں سے ملنے نہیں آتے،آج چوتھا روز ہے حکومت اسمبلی کا کورم تک پورا نہیں کر پارہی ہے،امید تھی وزیرِ اعظم آج اسمبلی میں ہمارے 7 سوالوں کا جواب دیں گے،لیکن وہ نہیں آئے اس لیے ہم اسمبلی سیشن سے واک آؤٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔

اس موقع ہر اُن کا کہنا تھا کہ سنا ہے وزیرِ اعظم پیر کے روز اجلاس میں شرکت کریں گے، لگتا ہے اُن کو کہا گیا ہے کہ جمعہ کے بجائے پیر کے روز اجلاس میں شرکت کریں،تب تک روز سوتے وقت تقریر کو پڑھا کریں،اور تین دِنوں میں پہاڑے کی طرح تقریر کو یاد کر لیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی او آرز اپوزیشن کے ہی ہوتے ہیں ملزم کے نہیں، وزیرِ اعظم کی تقریر کے بعد اُن پر جرح کریں گے،اورپھر مشاورت کے بعد متحدہ اپوزیشن اپنی پالیسی مرتب کرکے صورت نئی حکمتِ عملی اپنائے گی۔

رانا ثناء اللہ کی جانب سے اعتزازاحسن پر اُٹھائے گئے سوالوں پت توجہ دلانے پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر میں رانا ثناء اللہ جیسے لوگوں کو جواب دینے لگ جاؤں تو میری سیاست کا اللہ ہی حافظ ہے۔

اس موقع پر شیخ رشید و شاہ محمود قریشی نے بھی میڈیا سے بات کی اور مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعظم تمام حیلے بہانوں کو ترک کر کے اسمبلی میں آئیں اور اپوزیشن کے 7 سوالوں کے جواب دیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں