کراچی (3 دسمبر 2025): سندھ ہائیکورٹ میں اورنگی ٹاؤن میں زندہ شخص کو باندھ کر جلانے کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی۔
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو خاصی زیرِ گردش رہی جس میں دیکھا گیا کہ زندہ شخص کو بجلی کے پول سے باندھ کر جلایا گیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ زندہ جلایا جانے والا شخص ڈاکو تھا جسے شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: 50 سالہ شخص کو زندہ جلانے کے شبے میں خاتون گرفتار
آج سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 2 روز پہلے اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے ایک شخص کو زندہ جلا دیا تھا، لوگوں کا کہنا تھا یہ ڈاکو ہے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ واقعہ پولیس کی نااہلی اور ناکامی ہے، سزا دینا عدالتوں کا کام ہے لوگوں کا نہیں واقعے سے شدید خوف و ہراس اور دہشت پھیلی۔
مزید کہا گیا کہ ویڈیو وائرل ہونے سے معاشرے بالخصوص بچوں میں خوف پھیلا ہے، کوئی ڈاکو یا چور ہے یا پھر قاتل اسے عدالت میں پیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔
’ایک مسلمان کو زندہ جلا دیا گیا لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ آئی جی سندھ اور ایس ایس پی ویسٹ کو عدالت میں طلب کیا جائے اور ان کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔‘
واضح رہے کہ پولیس نے سرکار کی مدعیت میں شخص کو زندہ جلائے جانے پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


