The news is by your side.

Advertisement

گوبر سے بنے گملے، اب گھر میں ہی سبزی اگائیے

اب گملوں میں کھاد ڈالنے کی ضرورت نہیں رہے گی، بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں ایسے گملوں کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، گوبر سے بنے گملوں میں گھاد کے بغیر پودے اگائے جاسکتے ہیں۔

گملوں میں پودوں کی صحت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے کیلئے کھاد کا استعمال بہت ضروری ہوتا ہے، گملوں میں پودوں کو آرگینک یا مصنوئی دونوں قسم کی کھاد دی جاسکتی ہے تاہم مصنوعی یا زرعی کھاد کے نتائج فوری آنے لگتے ہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عامر نواز خان نے کہا کہ ان گملوں کو خالص گوبر سے بنایا گیا ہے اس لیے ان کو کھاد کی ضرورت نہیں رہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ گوبر سے بنے ان گملوں میں تمام قسم کی سبزیاں اور پھول اگائے جاسکتے ہیں اور بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی میں پھولوں کی باقاعدہ کاشت کا ٓغاز کردیا گیا ہے۔

شروع میں پودے کو ایسی کھاد ڈالنی چاہئے جس میں زیادہ نائٹروجن شامل ہو جیسے یوریا یا امونیم سلفیٹ جب پودوں میں پھل لگنے لگیں تو انہیں زیادہ فاسفورس اور زیادہ پوٹاشیم اور کم نائٹروجن والی کھاد ڈالنی چاہئے۔

دوسری جانب آرگینک کھاد جیسے گوبر یا کمپوسٹ ذرا آہستہ اپنا رنگ دکھاتی ہے لیکن آرگینک کھاد کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے پودے کو ہمہ قسم کی کھاد میسر ہوتی ہے۔

جس میں دونوں میکرو اور مائیکرو اقسام کے نیوٹریئینٹ (غذائی اجزا) دستیاب ہوتے ہیں۔ مصنوعی کھاد میں میکرو نیوٹریئینٹ جیسے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم زیادہ مقدار میں شامل ہوتے ہیں جبکہ چند مائرو نیوٹریئینٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔

شروع میں پودے کو ایسی کھاد ڈالنی چاہئے جس میں زیادہ نائٹروجن شامل ہو جیسے یوریا یا امونیم سلفیٹ جب پودوں میں پھل لگنے لگیں تو انہیں زیادہ فاسفورس اور زیادہ پوٹاشیم اور کم نائٹروجن والی کھاد ڈالنی چاہئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں