The news is by your side.

Advertisement

اسامہ بن لادن کی لاش سمندر برد کی تاکہ لوگ مزار نہ بنالیں، شہزادہ ترکی الفیصل

ریاض : ترکی الفیصل نے اسامہ بن لادن سے متعلق انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کے وقت اسامہ نے اسلحہ اٹھا رکھا تھا،تدفین سے خدشہ تھا لوگ مزارنہ بنالیں اس لئے لاش سمندر برد کی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے طالبان کے سابق امیر مُلا محمد عمر سے متعدد بار بن لادن کو ریاض کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا مگر انہوں نے سعودی عرب کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

سعودی عرب نے ملا عمر کو خبردار کیا تھا کہ بن لادن کی حوالگی سے انکار پر افغانستان کو غیر معمولی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ طالبان کی طرف سے انکار کے بعد ریاض نے طالبان حکومت سے تعلقات ختم کر دیے گئے۔

عرب ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا کہ اسامہ بن لادن کی نعش دفنانے کے بجائے سمندر بُرد کیوں کی؟ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ کی لاش سمندر برد کرنے کا فیصلہ اس بنا پر کیا گیا کہ تدفین کی صورت میں لوگ ان کا مزار نہ بنا لیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک سوال کے جواب میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ بن لادن حیران کن انداز میں اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے تاکہ ان کے ٹھکانے کی نشاندہی نہ ہو۔ سعودی حکام اسامہ کے اہل خانہ کو صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر ان سے ملنے کی اجازت دیتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کا بن لادن کے قتل کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، امریکی فوجیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کارروائی کے وقت بن لادن نے اسلحہ اٹھا رکھا تھا جس کے باعث انہیں قتل کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں