The news is by your side.

Advertisement

امریکی آپریشن میں ’اسامہ بن لادن‘ کی ہلاکت کو پانچ برس بیت گئے

ایبٹ آباد: القاعدہ لیڈراسامہ بن لادن کی امریکی آپریشن میں ہلاکت کے پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں، ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن کے مکین آج بھی اس فوجی آپریشن کو بھول نہیں پائے۔

دو مئی دو ہزار گیارہ کی تاریک رات میں بارہ بج کر پینتیس منٹ پر ایبٹ آباد کی حدود میں تین ہیلی کا پٹرز داخل ہوئے، جن کا ٹارگٹ دنیا کے انتہائی مطلوب شخص اور القاعدہ کے روح رواں شیخ اسامہ بن لادن کو منطقی انجام تک پہنچانا تھا۔ آپریشن کا نام نیپچون سپیئر رکھا گیا تھا۔

3

4

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے کچھ فاصلہ پرواقع بلال ٹاؤن کے علاقہ میں واقعہ قلعہ نما کمپاؤنڈ پرفوجی آپریشن کیا، آپریشن میں امریکی فوج کے اسپیشل کمانڈوز کمپاؤنڈ کی بالائی منزل پراترے اور آپریشن کے ذریعے مبینہ طور پرالقاعدہ لیڈراسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

امریکی وزیرِدفاع لیون پنیٹا نے اعتراف کیا القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات ایک پاکستانی ڈاکٹرنے فراہم کیں تھیں۔

1

خیال رہے کہ برطانوی اخبار میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے خاندان کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی ایک جعلی مہم چلائی تھی، رپورٹ کے مطابق اس مہم کی نگرانی ایک پاکستانی ڈاکٹرشکیل آفریدی نے کی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے ملک دین خیل قبیلے سے بتایا جاتا ہے تاہم وہ گزشتہ کئی برسوں سے پشاور کے علاقے حیات آباد میں مقیم تھے۔

11

بعد میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اسامہ کے کمپاؤنڈ کی جاسوسی کرنے اور امریکی حکام کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کر کے ان کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کیا تھا۔

مئی سنہ 2012 میں خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید اور جرمانے کی سزا کا حکم سنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کو دی جانے والی پچاس کروڑ ڈالر کی امداد پرپابندی لگانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

8

ایبٹ آباد میں ہونے والے امریکی آپریشن کی تحقیقات کیلئے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا گیا، جنہوں نے اسامہ کمپاؤنڈ میں جاکر تحقیقات کے ساتھ عام افراد اور افسران کے بیا نات بھی قلمبند کئے۔

دو مئی دو ہزارگیارہ کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام نے ان کی تین بیواؤں اور بچوں کو اپنی تحویل میں لیا تھا اور دس ماہ بعد ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر کے کارروائی کی گئی تھی۔

5

7

کمپاؤنڈ میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعداسامہ بن لادن کی آخری رہائش گاہ سول انتظامیہ کے حوالے کیا گیا جس نے فی الفور اس عمارت کو مکمل طورپرمسمارکردیا اوراراضی خیبر پختونخواہ حکومت کے نام پر منتقل کر دی گئی، جو اب بچوں کے کھیل کے میدان میں تبدیل ہوگئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں