The news is by your side.

Advertisement

اسامہ ستی قتل کیس : عدالت کا ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسامہ ستی قتل کیس میں ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فردجرم عائد کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اسامہ ستی قتل کیس کی سماعت ہوئی ، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے کیس کی سماعت کی ، گرفتار اے ٹی ایس کے 5 ملزمان کو عدالت کے روبروپیش کیا گیا۔

دوران سماعت اسلام آباد پولیس کی جانب سے چالان عدالت میں جمع کرایا گیا ، جس پر عدالت نے ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا آئندہ سماعت پر ملزمان پر فردجرم عائد کی جائے گی۔

عدالت کی ہدایت پر پانچوں ملزمان کوفرد جرم کی کاپیاں فراہم کردی گئیں اور کیس کی سماعت 5مارچ تک ملتوی کردی۔

یاد رہے 2 جنوری کو اسلام آباد جی ٹین میں اے ٹی ایس اہل کاروں کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان 21 سالہ اسامہ ستی جاں بحق ہوگیا تھا۔ والد اسامہ ستی نے کہا تھا کہ میرے بیٹے کو جان بوجھ کر گولیاں ماری گئیں۔

واقعے کے بعد وفاقی پولیس نے قتل میں ملوث 5 اہل کاروں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹیبل مصطفیٰ، شکیل، مدثر اور سعید کو قصور وار ثابت ہونے پر پولیس سروس سے برطرف کر دیا تھا۔

بعد ازاں اینٹی ٹیررازم اسکواڈ کے اہل کاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان اسامہ ستی کے کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ مکمل ہو گئی تھی ، رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی نے غیر ذمہ داری دکھائی، دونوں افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اسامہ ستی کیس پر عوامی ردِ عمل شدید تھا، ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں