The news is by your side.

Advertisement

“ارطغرل” جو سمندری طوفان کی نذر ہو گیا

ترکی کی ڈراما سیریز ارطغرل غازی کا شہرہ اور ناظرین میں‌ اس کے کرداروں کی مقبولیت کا اندازہ اس ڈرامے سے متعلق شایع و نشر ہونے والی خبروں، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور اس ان پر تبصروں سے لگایا جاسکتا ہے۔

ہم آپ کو اسی تاریخی کردار سے موسوم اُس بحری جہاز کے بارے میں‌ بتارہے ہیں جو غرقاب ہو گیا تھا اور اس سمندری طوفان کی وجہ سے پیش آنے والے اس حادثے میں سلطنتِ عثمانیہ کے کئی وفادار اور جاں نثار ہلاک ہوگئے تھے۔

1863 میں عثمانی بحریہ نے ایک جنگی جہاز تیار کیا جس کا نام ارطغرل رکھا گیا۔ 1890 میں اس بحری جہاز کو جاپان کے ساحل سے واپسی پر واکایاما پریفیکچر کے قریب سمندری طوفان کا سامنا کرنا پڑا جس کے دوران ارطغرل کا رخ پتھریلے ساحل کی طرف مڑ گیا اور تباہ ہو گیا۔ جہاز کے سمندر میں‌ ڈوبنے سے 500 سے زائد ملاح اور اس کا عملہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھا جن میں ریئر ایڈمرل علی عثمان پاشا بھی شامل تھے۔

یہ جہاز دوستانہ روابط کے فروغ کے لیے ایک مقصد کے تحت جاپان بھیجا گیا تھا اور حادثے کے بعد جاپانی بحریہ کے دو چھوٹے جہازوں نے 69 لوگوں کی زندگی بچائی تھی۔

اس بحری جہاز کی تیاری کا حکم 1854 میں سلطان عبد العزیز اوّل نے دیا تھا جسے سلطنتِ عثمانیہ کے بانی کے والد ارطغرل سے موسوم کیا گیا۔

تاریخ میں‌ اس بحری جنگی جہاز سے متعلق لکھا ہے کہ اس کے لکڑی سے بنے تین مستول تھے، جہاز کی لمبائی 79 میٹر (260 فٹ) جب کہ چوڑائی 15.5 میٹر (51 فٹ) اور 8 میٹر (26 فٹ) گہرا تھا۔

اس جہاز میں دخانی انجن کی مشینری اور برقی قمقمے بھی نصب تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں