The news is by your side.

Advertisement

کرونا اور لاک ڈاؤن سے جڑے ہوئے پھیپھڑوں کی کہانی

تروتازہ اور صاف ہوا ہماری صحت اور تن درستی کے لیے نہایت ضروری ہے جو پھیپھڑوں کے ذریعے ہمارے جسم میں پہنچتی ہے۔

اگر ہمارے جسم میں موجود پھیپھڑے خراب یا ناکارہ ہوجائیں تو ہم سانس نہیں لے سکیں جس کے نتیجے میں موت یقینی ہے۔ آلودہ ہوا میں سانس لینے کے دوران مختلف زہریلے مادے ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔

کرونا وائرس بھی ہمارے جسم میں داخل ہوکر اسی اہم ترین عضو کو متاثر کرتا ہے اور جب جسم اس وائرس کا مقابلے کرنے اور پھیپھڑے اپنا کام انجام دینے میں ناکام ہو جائیں تو انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

اسی کرونا کی وجہ سے دنیا کے مختلف شہروں میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے جس کے دوران ایئر انڈیکس جائزے سے معلوم ہوا کہ مختلف ملکوں کے شہروں میں آب و ہوا صاف ہوئی ہے اور ماحول میں بہتری آرہی ہے اور گیسوں، دھویں، مخلتف زہریلے اور کثیف مادوں سے صاف ہوا کا کچھ تو فائدہ اٹھایا ہی جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کھلی فضا اور تازہ ہوا میں سانس لینے سے آپ سانس کی مختلف طبی مسائل اور بیماریوں کے خطرے سے محفوظ رہتے ہیں۔

لمبی اور گہری سانس لینے سے دل کو صحیح مقدار میں آکسیجن ملتی ہے جب کہ اس سے پھیپھڑے بھی مضبوط ہوتے ہیں اور ان کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں‌۔

طبی ماہرین کے مطابق گہرے سانس لینے سے مدافعتی نظام تن درست رہتا ہے جس سے ہمارے بیمار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

کرونا سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے آپ تازہ اور پہلے کے مقابلے میں قدرے صاف ہوا میں لمبے اور گہرے سانس لے کر آپ جہاں بیماریوں کے خطرات کم کرسکتے ہیں، وہیں ڈپریشن، گھبراہٹ اور بیزاری کی کیفیت سے بھی نجات مل سکتی ہے۔

محققین اور ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ لمبے اور گہرے سانس لینے سے دماغی حالت پر مثبت اثر پڑتا ہے اور یہ عمل خاص طور ڈپریشن سے نجات دلاتا ہے۔

صاف ستھری ہوا جہاں پھیپھڑوں کو طاقت دیتی ہے، وہیں دل کو مضبوط کرتی ہے جو خون کی گردش بہتر بناتا ہے۔

دنیا بھر میں‌ فضائی آلودگی سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور انسان طرح طرح کے جسمانی اور ذہنی امراض سمیت مختلف قسم کی معذوریوں کا شکار ہورہا ہے، ان حالات میں میسر قدرے صاف ہوا پھیپھڑوں کے لیے تو نعمتِ غیر مترقبہ ہی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں