The news is by your side.

Advertisement

ہماری جدوجہد پاکستان کے لیے ہے، روف صدیقی

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے حال ہی میں جیل سے رہائی پانے والے رہنماء اور رکن صوبائی اسمبلی رؤف صدیقی نے کہا ہے کہ 22 اگست کو جو ہوا وہ نہیں ہونا تھا، ہماری سیاست پاکستان کی بقاء کے لیے ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آر میں میزبان وسیم بادامی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کیا۔ رؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ میں بے گناہ تھا اُس کے باوجود جیل میں 117 دن قید کے گزارے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی نے کہا کہ جیل میں موجود دیگر رہنماء بھی پاکستان مخالف نعروں کی حمایت میں نہیں ہیں، حب الوطنی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا، آج سے 100 سال بعد بھی اگر یہی رویہ رہا تو میں ایسے شخص کے ساتھ نہیں چل سکتا۔

رؤف صدیقی نے کہا کہ ’’میں اور وسیم اختر ایک ہی سیل میں موجود تھے، وہ میئر کراچی کی حیثیت سے اسیری کے باوجود کام کررہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں دیگر قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی آواز ہر فورم پر اٹھاؤں گا۔

پڑھیں: رؤف صدیقی ضمانت پر رہا،پی آئی بی میں پُرتپاک استقبال

 بانی ایم کیو ایم کے را سے تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں روف صدیقی نے کہا کہ ’’گزشتہ ایک سال قبل میں بانی تحریک کے ساتھ تھا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے متعلق خبریں ٹی وی پر آنی شروع ہوئیں تو میں نے اُن سے اس حوالے سے دریافت کیا۔

متحدہ پاکستان کے رہنماء نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے انکشاف کیا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے جس شخص کو بھی گرفتار کیا اُس نے سارا ملبہ مجھ پر ہی ڈال دیا۔

جیل میں گزارے گئے دنوں اور دیگر رہنماؤں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں رؤف صدیقی نے کہا کہ ’’ہر جگہ کی علیحدہ بات ہوتی ہے جیل میں قید کا ایک دن صدی کے برابر ہوتا ہے تاہم میں نے اللہ کی رضا کے لیے جھوٹے مقدمات بنانے والے و دیگر افراد کو معاف کردیا ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں