لندن : کینٹ میں گردن توڑ بخار کی وبا پھیلنے کے بعد ہیلتھ الرٹ جاری کردیا گیا، یہ بیماری قریبی رابطے، جیسے بوسہ لینے، یا ویپس اور مشروبات کے برتن شیئر کرنے سے پھیلتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے علاقے کینٹ اور کینٹربری کو گردن توڑ بخار کی مہلک وبا نے لپیٹ میں لے لیا ہے، اب تک اس وبا سے 27 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 15 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ دو ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
برطانوی وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ نے اس وباء کا مرکز کینٹربری میں واقع ‘کلب کیمسٹری’ نامی نائٹ کلب کو قرار دیا جا رہا ہے، تصدیق شدہ کیسز میں سے کم از کم 10 افراد نے 5 سے 7 مارچ کے درمیان اس کلب کا دورہ کیا تھا۔
متاثرین میں یونیورسٹی آف کینٹ کے طلبہ کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ کینٹ کے چار اسکولوں اور لندن کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں بھی کیسز سامنے آئے ہیں۔
گردن توڑ بخار (Meningitis) کیا ہے؟
یہ ایک خطرناک انفیکشن ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی جھلیوں میں سوزش کا باعث بنتا ہے، جو آگے چل کر خون کے زہریلے ہونے (Sepsis) کا سبب بن سکتا ہے۔
اس آؤٹ بریک میں ‘بیکٹیریل میننجائٹس’ (Bacterial Meningitis) پایا گیا ہے جو وائرل قسم کے مقابلے میں زیادہ نایاب اور مہلک ہے۔
ابتدائی علامات میں شدید سر درد، بخار، غنودگی اور گردن میں اکڑن شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں جسم پر دھبے بھی بن سکتے ہیں۔
یہ بیماری قریبی رابطے، جیسے بوسہ لینے، یا ویپس اور مشروبات کے برتن شیئر کرنے سے پھیلتی ہے۔
ماہرین کے مطابق 10 سے 24 فیصد لوگ نادانستہ طور پر اس کے جراثیم اپنے گلے یا ناک میں رکھتے ہیں۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے پروفیسر اینڈریو لی کا کہنا ہے کہ یہ بیماری فلو یا کووڈ-19 کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتی بلکہ اس کے لیے طویل قریبی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، اس آؤٹ بریک میں زیادہ تر کیسز ‘گروپ بی میننجوکوکل’ کے ہیں، جو برطانیہ میں سب سے عام قسم ہے۔
وزیرِ صحت نے اس صورتحال کو "بے مثال” قرار دیا ہے کیونکہ 13 مارچ کو پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ مذکورہ بالا علامات محسوس کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔
عالمی سطح پر ہر سال 20 لاکھ سے زائد افراد گردن توڑ بخار کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے 80 فیصد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتا ہے۔ مغرب میں یہ وباء زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ میں دیکھی گئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


