(5 نومبر 2025): موسم سرما میں 10 گھنٹے سے زیادہ بجلی فراہم کرنے والے ملازمین اور افسران کے لیے بڑی سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ انوکھا حکم نامہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ربی سیزن کے دوران بجلی کی فراہمی کو 10 گھنٹے تک محدود کرتے ہوئے اس سے زیادہ بجلی فراہم کرنے والے اہلکاروں کی تنخواہیں کاٹ دینے کا حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حکمنانہ مدھیہ پردیش میں بجلی فراہم کرنے والی ریاستی بجلی کمپنی نے جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اب کسانوں کو دن میں صرف طے شدہ وقت 10 گھنٹے تک بجلی فراہم کی جائے گی۔ اگر اس سے زیادہ وقت کسی بھی فیڈر سے بجلی فراہم کی گئی تو متعلقہ اہلکاروں اور افسران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مدھیہ پردیش مدھیہ شیتر وِدیوَت وِترن کمپنی لمیٹڈ کے چیف جنرل مینیجر اے کے جین نے تمام ضلعی و مقامی افسران کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی زرعی فیڈر پر روزانہ 10 گھنٹے سے زیادہ بجلی سپلائی پائی جاتی ہے تو ذمہ دار آپریٹر کی ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
اسی طرح اگر کسی فیڈر پر دو دن مسلسل مقررہ وقت سے زیادہ بجلی دی جاتی ہے تو متعلقہ جونیئر انجینئر کی ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
اگر پانچ دن مسلسل یہ خلاف ورزی ہوتی ہے تو متعلقہ ڈپٹی جنرل مینیجر (ڈی جی ایم) کو سزا ملے گی اور ان کی بھی ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی فیڈر پر سات دن مسلسل دس گھنٹے سے زیادہ بجلی سپلائی دی گئی تو متعلقہ جنرل مینیجر (جی ایم) کی ایک دن کی تنخواہ بھی کاٹ لی جائے گی۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس اور کسان تنظیموں نے ریاستی کمپنی کے اس فیصلے کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ربیع کی فصل کاشت کرنے والے کسان مشکلات کا شکار ہوں گے۔ انہوں نے یہ انوکھا حکمنامہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔


