The news is by your side.

Advertisement

ایئر کنڈیشنر کا بے تحاشا استعمال، ہوش رُبا انکشافات

کرۂ ارض کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے، پاکستان سمیت مختلف ممالک گرمی کی شدید کی لپیٹ میں ہیں، توانائی کی کمی اور لوڈ شیڈنگ میں اضافے کے باعث شہریوں کو روزہ مرہ زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایسے میں ایئر کنڈیشنر کا استعمال روز بہ روز بڑھتا جا رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک لوگ اے سی لگانا ایک عیاشی سمجھتے تھے لیکن اب ضروریاتِ زندگی میں شمار ہونے لگا ہے، زیادہ تر دفاتر میں ائیر کنڈیشنر لگا ہوتا ہے، اسی لیے ایسے لوگ گھروں میں بھی چاہے ایک ہی کیوں نہ ہو، اے سی لگا لیتے ہیں۔

تاہم اے سی کا بے تحاشا استعمال کرنے کے ایسے نقصانات ہیں جن کا جاننا آپ کے لیے بےحد ضروری ہے، سارا دن ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے سے کئی طرح کی بیماریاں لا حق ہو سکتی ہیں، جن میں سانس کی بیماری، پھیپھڑوں کی بیماری، جسم میں مستقل درد، جلد کے مسائل وغیرہ بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

سانس کے مسائل:

اے سی میں رہنے سے گرمی سے تو نجات مل جاتی ہے لیکن اس کی مستقل ٹھنڈک پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے، اگر اے سی کے فلٹر کی بار بار صفائی نہ کی جائے تو اس میں سے بھی جراثیم اورگرد وغبار ہوا کے ساتھ ہماری سانس میں شامل ہو جاتا ہے، جس سے الرجی اور دوسری بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

بیکٹیریا:

ایک خاص قسم کے بیکٹیریا لیگیونیلانیموفیلا کی وجہ سے سانس لینے کے عمل کو متاثر کرنے والی ایک بیماری لیگیونیئر بھی لا حق ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ پھیپھڑوں کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ رہتا ہے، جو لوگ نزلہ زکام کے مستقل مریض ہیں ان کو خاص کر بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

سر اور کندھے:

ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈک سے سر اور کندھوں میں مستقل درد رہنا شروع ہو جاتا ہے، اس کی ٹھنڈک جسم کے پٹھوں اور جوڑوں کو متا ثر کرتی ہے، اس سے جسم کے مختلف حصے متاثر ہوتے ہیں اور یہ ٹھنڈک جسم میں بیٹھ جاتی ہے۔

خاص طور پر اگر اے سی کی کولنگ زیادہ ہو تو پھر تو یہ زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے کیوں کہ اس ٹھنڈک سے نکل کر جب آپ باہر کے درجہ حرارت میں آتے ہیں تو یہ زیادہ مضر صحت ہو تا ہے، جسم کا درجہ حرارت بار بار کم زیادہ ہوتا ہے جو کہ آپ کے جسم پر اثر انداز ہو تا ہے۔

احتیاط:

کوشش یہ کرنی چاہیے کہ مستقل سارا دن اے سی میں نہ رہیں بلکہ کچھ وقت کے لیے نارمل ٹمپریچر میں بھی اپنے جسم کو رکھیں تاکہ ٹھنڈ کا اثر کچھ کم ہو۔

اے سی کا ٹمپریچر کم پہ نہ رکھیں، اکثر لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ کولنگ پسند کرتے ہیں، اسی لیے وہ ایئر کنڈیشنر کا ٹمپریچر 16 سے 22 کے درمیان میں رکھتے ہیں، جو کہ جسم کے لیے مضر ہوتا ہے، بہت زیادہ ٹھنڈک جوڑوں کو متاثر کرتی ہے اور جوڑوں میں درد کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔

جلدی بڑھاپا:

کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ مستقل ایئر کنڈیشنر میں رہنے والے جلدی بوڑھے ہو جاتے ہیں؟ ٹھنڈک سے جلد پر جھریاں جلدی بڑھ جاتی ہیں، کیوں کہ اے سی کمرے کی نمی کو کھینچ لیتا ہے، اور خشکی بڑھ جاتی ہے، چناں چہ اے سی میں زیادہ بیٹھنے یا رہنے والوں کی جلد بھی خشک ہو جاتی ہے اور یوں جھریاں ہونے لگتی ہیں۔

احتیاط:

اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پانی کا استعمال بڑھا دیا جائے یا پھر روم ہیومیڈیفایئر کا استعمال کیا جائے، جو کمرے میں نمی کا تناسب برقرار رکھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں