اسلام آباد : وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشن میں تبدیلیاں صارفین کے مفاد میں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سینیٹ میں سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشن میں حالیہ تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پالیسی کی بجائے ریگولیٹری نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ سے بچانا ہے۔
وزیر نے وضاحت کی کہ نیپرا کا بنیادی کام صارفین کے مفاد کا تحفظ کرنا اور بجلی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا نے صارفین کے ساتھ پہلے سے طے شدہ کسی شق میں تبدیلی نہیں کی اور موجودہ سات سالہ نیٹ میٹرڈ کنٹریکٹس برقرار ہیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے حکومت کے اقدامات کی حمایت کی ہے اور اس کے باوجود سولر پاور جنریشن میں 8,000 میگاواٹ اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2018-22 کے دوران بجلی کی بلند قیمتوں کی بنیادی وجہ روپے کی تیز شرحِ کمی تھی، جس کے اثرات سے موجودہ حکومت نمٹ رہی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کا طریقہ کار وفاقی کابینہ نے منظور کیا اور پاکستان نے اپنی پاور مکس میں 55 فیصد صاف توانائی حاصل کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ فارن آئل کے استعمال کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے اور بین الاقوامی اداروں نے حکومت شہباز شریف کے پاور سیکٹر اصلاحات کی تصدیق کی ہے، آزاد پاور پروڈیوسرز کے معاملات میں حکومت نے معاہدے جائزے اور تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر کیں، اور اثر و رسوخ رکھنے والے گروپس کے دباؤ میں نہیں آئی۔
صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ 34.5 ملین بجلی صارفین میں سے صرف 466,000 نیٹ میٹرنگ صارفین ہیں، نیپرا کو 26 روپے فی یونٹ پر بجلی خریدنے کی اجازت دینے سے عام صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا بوجھ پڑتا۔
اویس لغاری نے تصدیق کی کہ نیپرا کی منظور شدہ شرحوں کے تحت نئے صارفین اپنی سرمایہ کاری تین سال میں واپس حاصل کر سکتے ہیں، اگر ریگولیشنز میں اصلاح نہ کی جاتی تو عام صارفین کے لیے فی یونٹ 5 روپے کا اضافی بوجھ پیدا ہوتا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


