اسلام آباد : وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی مہنگی ہونے کی نوید سنا دی اور کہا نیپرا ریگولیشن سے صرف سات ہزار نیٹ میٹرنگ والوں پراثر ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہ عام صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 2 سے 2.5 روپے فی یونٹ تک کا اضافہ ہو رہا ہے، یہ اضافہ بنیادی طور پر "فکسڈ چارجز” اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے تاکہ بجلی کے شعبے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق ریگولیٹرز نے 5 مرتبہ ریگولیشنز میں تبدیلی کی، سوشل میڈیا پر ریگولیشنز سے متعلق مختلف باتیں ہو رہی ہیں، 2،3 سال پہلے اس معاملے پر بحث کا آغاز ہوا، نیٹ میٹرنگ کا نظام 2017 میں متعارف کرایا گیا لیکن ریگولیشنزمیں تبدیلی کی گئی اس پر اعتراضات آئے۔
انھوں نے بتایا کہ ریگولیشنز میں تبدیلی کو کنٹریکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں اور اتحادیوں کو اظہار تشویش ہے اور ریگولیشنز کی تبدیلی کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سولر کی مد میں پورے ملک میں 20 سے 22 ہزار میگاواٹ کا حجم ہے ، 6 ہزار میگاواٹ نیٹ میٹرنگ سسٹم پر ہے تاہم 7 ہزار میگا واٹ نیٹ میٹرنگ کے زمرے میں آتے ہیں، باقی چودہ ہزار سولر صارفین کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ نیشنل گرڈ پر ساڑھے 3 کروڑ صارف ہیں، کمرشل اور گھریلو صارفین کی پیداوار 4 ہزار میگا واٹ ہے، پاکستان 2034 تک 90 فیصد ماحول دوست توانائی پیدا کر رہا ہوگا۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی کو روکنے کی ہدایت کی اور فوری نیپرا سے رجوع کرنےکی ہدایت کی ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر اب نظر ثانی کی جارہی ہے ، موجودہ صارفین پر ریگولیشنز کے اثرات مرتب ہورہے تھے انہیں روک دیا، اب بلز نیٹ میٹرنگ کے مطابق ہی آئیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


