site
stats
ضرور پڑھیں

زمین کو تابکار شعاعوں سے بچانے والی اوزون تہہ کی رفو گری

عالمی خلائی ادارے ناسا نے تصدیق کی ہے کہ زمین کو سورج کی تابکار شعاعوں سے بچانے والی اوزون تہہ میں پڑنے والے شگاف رفو ہونا شروع ہوگئے ہیں اور یہ سنہ 2060 تک مکمل طور اپنی اصل حالت میں واپس آجائے گی۔

خیال رہے کہ اوزون تہہ زمین کی فضا سے 15 تا 55 کلومیٹر اوپر ایک حفاظتی تہہ ہے جو سورج کی مضر اور تابکار شعاعوں کو زمین پر آنے سے روک دیتی ہے۔

مزید پڑھیں: اوزون کی تہہ زمین کے لیے کیوں ضروری ہے؟

یہ تابکار شعاعیں انسان کو جلد کے کینسر سمیت قوت مدافعت میں کمی اور دیگر جان لیوا بیماریوں میں مبتلا کرسکتی ہیں جبکہ پودوں کو بھی تباہ کرسکتی ہیں۔

کچھ دہائیوں قبل دنیا بھر میں اچانک سی ایف سی گیسز کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا تھا جو اس تہہ کو نقصان پہنچا رہی تھی۔

سی ایف سی یعنی کلورو فلورو کاربن تین مضر گیسوں کاربن، کلورین اور فلورین پر مشتمل ہوتی ہے جو انرجی سیور بلب، ڈیپ فریزر، ریفریجریٹرز، کار، ایئر کنڈیشنر، فوم، ڈرائی کلیننگ، آگ بجھانے والے آلات، صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل اور فیومیگیشن میں ہوتی ہے۔

یہ گیس جب فضا میں جاتی ہے تو براہ راست جا کر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہے جس سے اس مقام پر سورج کی تابکار شعاعیں زمین پر آںے لگتی ہیں۔

سنہ 1989 میں جب اوزون کو پہنچنے والے اس نقصان کا علم ہوا تو کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ایک معاہدہ کیا گیا جس کے تحت دنیا بھر کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی صنعتوں میں سی ایف سی گیسز کا استعمال کم سے کم کریں۔

اس معاہدے پر عمل کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے اور اوزون کی تہہ کی رفو گری شروع ہوگئی ہے جس کے تصدیق ناسا نے کی ہے جو خلا میں موجود اپنے اورا سیٹلائٹ کے ذریعے سنہ 2005 سے اوزون کی نگرانی کر رہا تھا۔

اوزون کی تہہ کے پھٹنے اور اس میں شگاف پڑنے کا عمل انٹارکٹیکا کے خطے میں پیش آیا تھا جس کے باعث وہاں کی برف تیزی سے پگھل رہی تھی جس سے سطح سمندر بلند ہونے کا خدشہ تھا۔

دوسری جانب برف کی عدم موجودگی میں وہاں موجود برفانی حیات کی معدومی کا بھی خطرہ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزون کی رفو گری فی الحال صرف 20 فیصد ہوئی ہے اور ابھی ہمیں اپنی زمین کو بچانے کے لیے مزید کام کرنا ہوگا جس کے بعد توقع ہے کہ سنہ 2060 یا 2080 تک یہ تہہ مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں واپس آجائے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top