پاک افغان طورخم سرحد عارضی طور پر کھل گئی -
The news is by your side.

Advertisement

پاک افغان طورخم سرحد عارضی طور پر کھل گئی

طورخم : پاک افغان بارڈ طورخم سرحد تقریباً ایک ہفتے کی کشیدگی کے بعد عارضی طور پر کھول دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کشیدگی کے بعد پاک افغان بارڈر عارضی طور پر کھول دیا گیا، طورخم بارڈر کھلتے ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بحال ہوگئیں، افغانستان جانے والی گاڑیاں بارڈر کی جانب رواں دواں ہیں جبکہ پاک افغان بارڈر سے پاسپورٹ اور ویزے کے حامل افراد کو ہی داخلے کی اجازت ہو گی۔

ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر پاکستانی سائیڈ پر گیٹ کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

یاد رہے کہ اسی ماہ 12 جون کو افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے بعد طورخم بارڈر کو بند کر دیا گیا تھا، طورخم بارڈر پر افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پاک فوج کے میجر علی جواد چنگیزی شہید اورکئی شہری زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد طورخم سے لنڈی کوتل بازار تک کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : پاک افغان سرحد طور خم پر کشیدگی، طورخم اورلنڈی کوتل میں کرفیو نافذ

جس کے بعد افغان سفیر کی عسکری حکام اور دفتر خارجہ کے حکام سے رابطوں میں کشیدگی کی صورت حال کو کنٹرول کرنے اور بات چیت سے معاملات طے کرنے پر اتفاق ہوا اور افغان سیکیورٹی فورسز نے سفید جھنڈے لہرادیئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق افغانی حکام نے پاکستان کو طورخم پر گیٹ کی تعمیر میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کروادی تھی۔

مزید پڑھیں : پاکستان اورافغانستان نے طورخم سرحد پرجنگ بندی کا اعلان کردیا

واضح رہے کہ طورخم بارڈر کے راستے کو دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کئے جانے کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں، جس پر پاکستانی حدود میں گیٹ کی تعمیر کی جارہی ہے تاکہ دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکا جائے۔ جس پر افغان فورسز نے فائرنگ کی۔

یکم جون سے طور خم سرحد کے ذریعے پاکستانی حدود میں بغیر سفری دستاویزات کے داخلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، افغان بارڈر حکام نے پاکستانی حکام سے اس پابندی میں رمضان المبارک کے آخر تک نرمی کا مطالبہ کیا تھا، جسے پاکستانی حکام نے مسترد کردیا تھا، اس وقت سے دونوں فورسز کے درمیان تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب حکومت پاکستان کے ترجمان نے واقعے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پاک افغان تعلقات کے لیے بہتر نہیں، افغان حکومت واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں