The news is by your side.

Advertisement

افغان جارحیت کے بعد آج چوتھے روز بھی پاک افغان بارڈر بند، چمن میں معمولات زندگی بحال

چمن : افغان جارحیت کے بعد کے بعد پاک افغان سرحد چوتھے روز بھی بند ہے ،تجارتی سرگرمیاں اور آمدورفت بحال نہ ہوسکی جبکہ  چمن میں معمولات زندگی بحال ہوناشروع ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق پاک افغان فورسز میں تیسری فلیگ میٹنگ کے بعد چمن میں ہماگہمی بحال ہونے کے باوجودباب دوستی پیدل آمدورفت سمیت ہرقسم کی سرگرمیوں کیلئے بند ہے،  باب دوستی افغان ٹریڈ اور نیٹو سپلائی مکمل طور پر بند ہیں جبکہ پیدل آمدورفت بھی معطل ہے، پاک فوج بھاری توپخانے کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہے،

کشیدگی کے باعث پانچ ہزار خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں۔

دوسری جانب چمن میں معمولات زندگی بحال ہوناشروع ہوگئے۔ پاک افغان جیالوجیکل ٹیمیں آج سے کلی لقمان اورکلی جہانگیر متنازع حدود پر سروے کا کام دوبارہ کررہی ہیں، تمام تجارتی مراکز اور دکانیں کھل گئیں، تعلیمی ادارے بھی کھل گئے۔

شہری علاقوں میں مردم شماری تین دن بعد دوبارہ شروع ہوگئی، سیکیورٹی فورسز کے جوان گھرگھر جاکرمعلومات اکھٹی کرنے والے شماریات کےاہلکاروں کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں، مردم شماری عملہ بھی قومی فریضہ اداکرنے کیلئے پرعزم ہے۔


مزید پڑھیں : باب دوستی پر پاک افغان فلیگ میٹنگ، کشیدگی کے خاتمے پر غور


سرحدی کشیدگی کےسبب نقل مکانی کرنےوالےدس سےزائددیہات میں مردم شماری کاعمل عارضی معطل ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاک افغان سیکیورٹی حکام کے درمیان باب دوستی پر فلیگ میٹنگ ہوئی جس میں  دونوں جانب سےگوگل سروےمیپ،جیولوجیکل سروے میپ پر اتفاق کیا گیا ، میٹنگ میں کہا گیا کہ  جیولوجیکل سروے ماہرین صورتحال کا جائزہ لیں گے اور افغان فورسز کے نقشوں میں فرق پایا گیا جو دور کیا جائے گا۔

سیکیورٹی زرائع کے مطابق فلیگ میٹنگ میں پاکستان کی جانب سے وفد کی قیادت سیکٹر کمانڈر ناردرن بریگیڈیئر ندیم سہیل نے شرکت کی جبکہ افغان فورسز کی جانب سے کرنل شریف  فلیگ میٹنگ میں موجود تھے۔


مزید پڑھیں : چمن : افغان فورسز کی گولہ باری و فائرنگ،10 شہری شہید، 45زخمی


واضح رہے کہ گزشتہ روز چمن کےگاؤں کلی لقمان،کلی جہانگیر میں افغان فورسز نے مردم شماری کی ٹیم پر فائرنگ اور گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں 10 افراد شہید اور 45زخمی ہوگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں