site
stats
اہم ترین

پاک افغان مذاکرات، طور خم بارڈر پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

اسلام آباد : پاکستان اورافغانستان کے درمیان وفود کی سطح پراسلام آباد میں مذاکرات ہوئے، دونوں ملکوں نے طورخم بارڈر پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان اور افغانستان کے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان آمد پر دفتر خارجہ میں پاک افغان وفود کے مذاکرات ہوئے، افغان وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی، جب کہ سیکریٹری خارجہ اور دیگرحکام نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ مذاکرات میں طورخم بارڈر کشیدگی، پاک افغان تعلقات، بارڈرمنیجمنٹ، مہاجرین کی واپسی پر بات چیت ہوئی۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک نے طورخم بارڈر پر کشیدگی کم کرنے، بارڈر مینجمنٹ کو دونوں جانب بہتر بنانے اور افغان مہاجرین کی جلد اور باعزت واپسی پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں سرحدی معاملات خوش اسلوبی اور باہمی مشاورت سے حل کرنے اور دونوں جانب سے دوستانہ ماحول میں کام کرنے پربھی اتفاق کیا گیا، اعلامیہ کے مطابق سرحد پر آمدورفت کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔

مشیرخارجہ سرتاج عزیز شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر تاشقند میں افغان وزیرخارجہ سے ملاقات کریں گے۔

افغان وفد کو دورہ پاکستان کی دعوت مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے دی تھی، افغان وفد کی قیادت کرنے والے نائب وزیرخارجہ حکمت کرزئی نے کہا کہ افغان وفد کا پاکستان آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کواہمیت دیتے ہیں، افغان وفد نے مشیرخارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی۔

واضح رہے کہ طورخم بارڈر کشیدگی کم کرانے اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کیلئے افغانستان کا سات رکنی وفد افغان نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل اسلام آباد پہنچا تھا، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان وفد کے دورے کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہے۔

مزید پڑھیں :  پاک افغان طورخم سرحد عارضی طور پر کھل گئی

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد طور خم پر کشیدگی، طورخم اورلنڈی کوتل میں کرفیو نافذ

یاد رہے کہ اسی ماہ 12 جون کو افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے بعد طورخم بارڈر کو بند کر دیا گیا تھا، طورخم بارڈر پر افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پاک فوج کے میجر علی جواد چنگیزی شہید اورکئی شہری زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد طورخم سے لنڈی کوتل بازار تک کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top