پیر, اپریل 20, 2026
اشتہار

افغانستان میں اس وقت طالبان کی غیر قانونی حکومت ہے، عطا اللہ تارڑ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (27 فروری 2026): وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس وقت طالبان کی غیر قانونی حکومت ہے، افغان طالبان رجیم نے وہاں اسلام کی آڑ میں تسلط قائم کر رکھا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشن غضب للحق پر بریفنگ دی، دہشتگردوں اور افغان طالبان رجیم کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے، پاکستان نے افغان جارحیت پر مؤثر جوابی کارروائی کی، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، وہاں دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال کی گئی، افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں محفوظ نہیں، افغان شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان کشیدگی: اس سارے معاملے میں بھارت اور اسرائیل شامل ہیں، جماعت اسلامی

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اس وقت طالبان کی غیر قانونی حکومت ہے، طالبان نے زبردستی افغان حکومت پر قبضہ کر رکھا ہے، افغان طالبان رجیم نے افغانستان میں اسلام کی آڑ میں تسلط قائم کر رکھا ہے، وہ مذہب کو ذاتی مفاد کیلیے استعمال کر رہی ہے، انہوں نے شریعت کی آڑ میں امتیازی قانون نافذ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کا جاری کردہ ضابطہ فوجداری بنیادی اسلامی و انسانی حقوق کے منافی ہے، ان کا ضابطہ فوجداری ججوں کو مجرم کی سماجی حیثیت پر سزا کی تعین کا اختیار دیتا ہے، ان کے نئے قوانین کے تحت تعزیری سزاؤں میں مجرم کی شخصیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

’علماء اور اعلیٰ عہدیداروں کو جج صرف وارننگ یا تنبیہ جاری کرتے ہیں۔ قبائلی رہنما اور تاجروں کو جج کی طرف سے مطلع کر کے عدالت میں طلب کیا جاتا ہے۔ افغان طالبان رجیم میں متوسط طبقے کو قید کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ افغانستان میں طالبان رجیم کی عدالتیں عام شہریوں کو قید اور کوڑوں کی سزا دیتی ہیں۔ شوہر کی اجازت کے بغیر والدین یا رشتہ داروں کے گھر جانے والی خواتین کو بھی سزائیں دی جا رہی ہیں۔‘

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یو این میں قرارداد آئی کہ افغانستان میں خواتین اغوا ہو رہی ہیں ان پر تشدد ہو رہا ہے، افغان طالبان رجیم کے دور میں لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی ہے، طالبان دور حکومت میں بچوں کو ویکسین بھی نہیں دی جا رہی، طالبان دور حکومت میں افغانستان میں جبر اور ظلم کا نظام ہے، افغان طالبان شریعت کی غلط اور من مانی تشریح کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم نے کل رات پاکستان پر میلی آنکھ سے دیکھا تو بھرپور جواب دیا گیا، افواج پاکستان نے ملک کا بھرپور دفاع کیا، دشمن اپنا سازو سامان چھوڑ کر بھاگے، طالبان رجیم کا کوئی حق نہیں کہ افغانستان کے لوگوں پر ظلم کرے، پاکستان نے جو بھرپور جواب دیا ہے وہ ہمارا حق تھا، دہشتگرد لاشیں چھوڑ کر فرار ہوئے ہمارے پاس ثبوت ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں