The news is by your side.

Advertisement

حکومت نے یورو بانڈز کی ادائیگی چینی بینک سے قرضہ لے کر کی

اسلام آباد : حکومت کی جانب سے یورو بانڈز کی ادائیگی چین سے نیا کمرشل قرضہ حاصل کرکے کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ملکی معیشت میں بہتری کے بلند وبانگ دعووں کے باوجود ملک قرضوں کے جال میں پھنستا جارہا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق پاکستان نے رواں سال یورو بونڈ پر سود کی ادائیگی چین سے لیے گئے ایک نئے قرض سے کی ہے، مشرف دور میں فروخت کئے گئے یورو بانڈز کی ادائیگی کیلئے حکومت کو پچھتر کروڑ ڈالر درکار ہیں۔

یورو بانڈز کی ادائیگی کے لئے چینی کمرشل بینک نے ایک ارب ڈالر کا قرض فراہم  کیا، اب چینی بینکوں سے لئے گئے قرضے کا حجم دو ارب ڈالر ہوگیا ہے۔

نوازحکومت نے تین برس میں پچیس ارب ڈالر کے نئے قرضے لئے ہیں، ساڑھے چار ارب ڈالر کے بانڈز بھی فروخت کئے جاچکے ہیں۔


مزید پڑھیں : یورو بانڈز کی ادائیگی، حکومت کا چین سے نیا کمرشل قرضہ لینے پر غور


خیال رہے کہ چینی بینک سے قرض لینے کا فیصلہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے کہ جب پہلے ہی چین کو قرض سے متعلقہ ادائیگیوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 3 گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق نیا قرضہ چائنہ ڈویلپمنٹ بینک سے لیا جائے گا اور رواں مالی سال کے دوارن یہ دوسرا موقع ہو گا کہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے چائنہ ڈویلپمنٹ بینک سے قرض لیا جائے گا، اس سے پہلے اسی بینک سے 70 کروڑ ڈالر (تقریباً 70 ارب پاکستانی روپے ) کا قرض تین سال کیلئے 4.44 فیصد شرح سود پر لیا گیا تھا ۔

واضح رہے کہ مشرف حکومت نے 2007 ءمیں 6.875 فیصد شرح سود پر 10 سالہ بانڈ جاری کیے تھے ، جن کی مدت اس ہفتے ختم ہو رہی تھی۔

دوسری جانب ترسیلات زر اور برآمدات میں کمی کے باعث ملکی زرمبادلہ ذخائر بھی دباؤ کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ نواز لیگ کے موجودہ دورے حکومت میں ملک پر قرضوں کے بوجھ میں پینتیس فیصد کا ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ملک کا مجموعی قرضہ 18 کھرب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں