اڑی حملہ : پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا رابطہ -
The news is by your side.

Advertisement

اڑی حملہ : پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا رابطہ

راولپنڈی: آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کی درخواست پر آج دوپہر پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا جس میں اڑی میں ہونے والے حملے سے متعلق بات چیت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا رابطہ بھارت کی درخواست پر کیاگیا، جس میں اڑی میں ہونے والے حملے پر بھارت کی جانب سے پاکستان پر عائد الزام پر بات کی گئی اور لائن آف کنٹرول پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’’بھارت کے الزام پر پاکستان نے ایک بار پھر اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کردیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ ’’مقبوضہ کشمیر بارمولا کی تحصیل اڑی میں دہشت گردوں کے حوالے سے انٹیلی جنس ثبوت ہیں تو پیش کیے جائیں‘‘۔

پڑھیں: کشمیرمیں ہندوستانی فوجی مرکز پر حملہ، 17فوجی ہلاک

ترجمان نے  مزید کہا کہ ’’اڑی میں بھارتی افواج کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے پاکستان پر الزامات لگانا قبل از وقت ہیں اگر انٹیلی جنس کی بنیاد پر ثبوت ہیں تو پیش کیے جائیں جن کی روشنی میں پاکستان کارروائی کرے گا‘‘۔

ڈی جی ایم او نے بھارت پر واضح کیا کہ ’’پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری کے اطراف میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں‘‘۔

مزید پڑھیں:  بھارت مقبوضہ کشمیر میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے،پاکستان

دونوں ممالک کے دی جی ایم اوز کے رابطے میں لائن آف کنٹرول پر جاری گشیدگی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان کی جانب سے ثبوت فراہمی کے بعد تحقیقات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے۔

یاد رہے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے علاقے بارہ مولا کے اڑی سیکٹر میں واقع بھارتی فوج ہیڈکوارٹر پر مسلح افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس میں 17 اہلکار ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے تاہم مقابلے کے دوران چاروں مسلح افراد بھی مارے گئے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہشت گردوں کے حملے کے بعد بھارتی فوج نے پورے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جب کہ بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے حملے کے بعد امریکا اور روس کا دورہ منسوخ کر کے اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جب کہ بھارت کے آرمی چیف اور وزیر دفاع مقبوضہ کشمیر کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں 72 ویں روز بھی کشیدگی، شہدا کی تعداد92 ہوگئی

واضح رہے مقبوضہ کشمیر میں حریت کمانڈر برہان وانی کی دوران حراست شہادت کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں اور بھارتی افواج کی جانب سے مسلسل نہتے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے، بھارتی افواج کی جانب سے مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جارہا ہے جس کے بعد ہزاروں کشمیریوں کی بینائی متاثر ہوئی اور سینکڑوں شہید بھی ہوگئے۔

بھارتی افواج کی جانب سے حریت رہنماؤں کو بھی گرفتار اور نظر بند کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے مسلسل 72 روز سے لگے کرفیو کے باعث کشمیری عوام کو اشیاء خوردونوش اور غذائی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑا رہا ہے جبکہ ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی نظام بھی منقطع کردیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں