بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کپل دیو نے ایشیا کپ 2025 کے میچز میں پاک بھارت تنازعے سے متعلق کہا ہے کہ جب دونوں کھیل ہی رہے ہیں تو ہاتھ ملانے میں کیا قباحت ہے؟
اس حوالے سے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کپل دیو نے کہا کہ کھلاڑیوں کو چاہیے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھیں، سیاسی معاملات سیاستدانوں پر چھوڑ دینے چاہئیں۔
جب بھارتی حکومت نے پاکستان سے کھیلنے کی اجازت دے دی تھی تو ہاتھ ملانے میں کیا قباحت تھی۔ جو بات کھیل کے لیے اچھی نہ ہو اسے ختم کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فطری بات ہے کہ کھلاڑیوں کے دل میں اپنے ملک کے لیے جذبات ہوتے ہیں، لیکن ان جذبات کی وجہ سے کھیل کی روح اور اسپورٹس مین اسپرٹ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
کپل دیو نے کہا کہ مصافحہ نہ کرنا یا ٹرافی نہ لینا کوئی بڑی بات نہیں، مگر ایسے معاملات کو طول دینا درست نہیں ہے، کھلاڑیوں کو آگے بڑھنا چاہیے اور حکومت کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔
دوسری جانب بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن اسمبلی اور امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ششی تھرور جو 23 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں ان کا بھی اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر ہم پاکستان کے بارے میں اتنی شدت سے محسوس کرتے ہیں تو ہمیں ان سے کھیلنا ہی نہیں چاہیے تھا اور اگر کھیل رہے ہیں تو ان ہاتھ بھی ملانا چاہیے تھا۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ 2025 میں پاک بھارت ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے تینوں میچوں میں بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سے روایتی مصافحہ نہیں کیا تھا جو تنازع کی شدت اختیار کرگیا۔
اس کے علاوہ ایونٹ کے فائنل میچ کے بعد بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے وننگ ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


