The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اور بھارت کا کرتارپورراہداری پر دونوں جانب باڑ لگانے پر اتفاق، ذرائع

پاک بھارت کرتارپور راہداری مذاکرات کااگلا دور2 اپریل کوواہگہ میں ہوگا

لاہور : کرتار پور راہداری منصوبے پر پاک بھارت ٹیکنیکل ماہرین کی ملاقات زیرو لائن پر ہوئی ، جس میں پاکستان اوربھارت نے کرتارپورراہداری پردونوں جانب باڑ  لگانے پر  اتفاق کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کرتارپورراہداری کھولنے کے حوالے سے پاک بھارت مذاکرات کاایک اور دور ختم ہوگیا ، مذاکرات زیرو لائن کرتار پور میں بابا ڈیرہ نانک کے مقام پرہو ئے، جو  3گھنٹے تک جاری رہے،  بھارت نے بابا ڈیرہ نانک کو زیروپوائنٹ قرار دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں دونوں طرف کے ٹیکنیکل ماہرین شریک ہوئے اور کرتارپور راہداری کے حوالے سے ٹیکنیکل امور کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں راہداری کے حوالے سے نشاندہی مکمل کرلی گئی اور دونوں ممالک نے سڑک کےتکنیکی امور طے کرلئے گئے ، جس کے تحت دونوں جانب سےکرتار پور راہداری پر خاردارباڑ لگائی جائے گی۔

پاک بھارت کرتارپور راہداری مذاکرات کااگلا دور2 اپریل کوواہگہ میں ہوگا۔

مذاکرات کے بعددونوں ممالک کے وفود کی واپس روانہ ہوگئے ہیں ، نمائندگان اپنی اپنی حکومتوں کو آج کے مذاکرات پر رپورٹس دیں گے جبکہ تکنیکی ماہرین سروے رپورٹس بھی جمع کرائیں گے اور سروے رپورٹس کے بعد کراسنگ پوائنٹس پر اتفاق رائے کیا جائے گا۔

یاد رہے اس سے قبل 14 مارچ کو ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی قیادت میں ایک وفد اٹاری گیا تھا، جہاں بھارتی حکام سے کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کئے گئے۔

مزید پڑھیں : کرتار پور راہداری پر اگلا اجلاس انیس مارچ کو زیرو پوائنٹ پر ہوگا ، ڈاکٹر فیصل

پاک بھارت مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا ، جس کے مطابق بات چیت کے اگلے مرحلے میں بھارتی وفد 2 اہریل مارچ کو پاکستان آئے گا، جبکہ اُس سے قبل ماہرین کی 19 مارچ کو زیرو پوائنٹ کے مقام پر  بات چیت ہوگی۔

پاکستان گوردوارہ صاحب سے سرحد تک اپنی حدود میں کرتارپور کوریڈور فیز ون میں ساڑھے 4 کلو میٹر سڑک تعمیر کرے گا، اسی طرح بھارت بھی اپنی حدود میں سرحد تک راہداری بنائے گا۔

منصوبہ مکمل ہونے پر یاتریوں کو کرتارپور کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں پڑے گی تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حتمی بات چیت ہونا باقی ہے۔

خیال رہے کہ 7 فروری کو پاکستان نے کرتارپور راہ داری کے سلسلے میں بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے 2 تاریخیں دی تھیں جس پر بھارت نے بھی مثبت جواب دیا تھا۔

واضح رہے پاکستان نے کرتار پور بارڈر کھولنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بھارت بھی اس اقدام کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگیا تھا، نئی دہلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے عوام کو جوڑے گا اور ہم بہتر مستقبل کی طرف جائیں گے‘۔

بعد ازاں 28 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے کرتارپوربارڈر کا افتتاح کرتے ہوئے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور کہا تھا ہندوستان ایک قدم بڑھائےہم دوبڑھائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں