The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ‘ وائس ایڈ مرل عارف اللہ حسینی

کراچی: پاک بحریہ کے وائس ایڈ مرل عارف اللہ حسینی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن کے لئے کوششیں کی ہیں، اگروہ جارحیت دکھاتے ہیں تو بچ کرنہیں جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق کمانڈر پاکستان فلیٹ کی مشترکہ امن مشقوں 2017 سےمتعلق بریفنگ دیتے ہوئے وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی نے بحیرہ عرب میں شروع مشقوں سےآگاہ کیا ، انہوں نے کہا کہ مشقوں میں مختلف ممالک حصہ لے رہے ہیں، ان مشقوں سے ایک دوسرے کے تجربے سے استفادہ حاصل کیا جائے گا۔

قیام امن کے حوالے سے یہ مشقیں10سے14فروری تک جاری رہیں گی، جس میں مختلف ممالک کی بحری فوج کےدستے شریک ہونگے۔

وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی کا کہنا تھا کہ ان مشقوں کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں ہے ، سب جانتے ہیں کہ بھارت کا ہمیشہ پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ رہا ہے، ہم بھارت کو پیغام دینا چاہتے ہیں جارحیت کو فروغ نہ دے کیونکہ پاکستان اپنا بھرپور دفاع اور تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عارف اللہ حسینی نے کہا کہ اگروہ جارحیت دکھاتے ہیں تو بچ کرنہیں جائیں گے، پڑوسی ملک سے کہتےہیں سمندر میں جارحیت سے گریز کرے، پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن کیلئے کوششیں کی ہیں۔

متعدد مرتبہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر کمانڈر پاکستان فلیٹ ایڈمرل عارف اللہ نے کہا کہ اک بحریہ پیشہ وارانہ لحاظ سے قابل اور با صلاحیت فورس ہے جو دشمن کی جانب سے کی کی گئی کسی بھی قسم کی پیش قدمی کا منہ توڑ جواب دینا جانتی ہے ہم کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہروقت تیار ہیں۔

یہاں پڑھیں:پاک ترک بحری مشقیں دوسرے دن بھی جاری رہیں

اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر کمانڈر پاکستان فلیٹ ایڈمرل عارف اللہ نے کہا کہ اک بحریہ پیشہ وارانہ لحاظ سے قابل اور با صلاحیت فورس ہے جو دشمن کی جانب سے کی کی گئی کسی بھی قسم کی پیش قدمی کا منہ توڑ جواب دینا جانتی ہے ہم کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہروقت تیار ہیں۔

یہاں پڑھیں:پاک بحریہ سمندری حدود کی کڑی نگرانی کررہی ہے،کمانڈر بحریہ فلیٹ

یاد رہے گذشتہ سال اکتوبر میں پاک نیوی اور ترک بحریہ کے درمیان فوجی مشقیں ہوئی تھیں، جس کا مقصد باہمی اشتراک بڑھانا اور علاقائی بحری سیکیورٹی کے لئے مل کر کام کرنا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں