لاہور(14 مارچ 2026): پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ بابر اعظم اور فخر زمان انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے دو پلیئرز ورلڈ کپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے۔
لاہور میں قومی سلیکشن کمیٹی کی پریس کانفرنس ہوئی جس میں عاقب جاوید نے کہا کہ یہ جاننا ہے کہ کیا بابر اور فخر ایونٹ کے دوران ہی انجری کا شکار ہوئے، ورلڈ کپ سے بڑی امیدیں تھیں مگر ہم اس طرح پرفارم نہیں کرسکے جیسا کرنا چاہیے تھا۔
عاقب جاوید نے کہا کہ بھارت کے ساتھ رزلٹ اب تک 8 صفر ہے اس میں سب شامل ہیں مگر انڈیا کا میچ الگ کر دیں باقی آپ ایک میچ ہارے ہیں۔
سلیکشن کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ایک میچ بارش کی نذر ہو گیا اور سیمی فائنل میں باہر ہو جاتے ہیں، اس پر سب کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ سب ختم ہو گیا یہ کر دیں وہ کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم سمیت کسی کے ورلڈ کپ کے جانے نہ جانے کے حوالے سے مل کر فیصلہ ہوا جبکہ بنگلا دیش میں ہم نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا کھیلنے کے لیے فٹ نہیں ہیں اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر فائنل میں پہنچ جاتے تو یہ کیا کھیلنے کے فٹ ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ سیمی فائنل میں پہنچیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، یہ طے ہے پلیئنگ الیون کوچ اور کپتان کی ذمے داری ہے، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم یہاں بیٹھ کر 11 پلیئرز کا فیصلہ کریں، پلیئنگ الیون کی تشکیل میں میرا کوئی حصہ نہیں تھا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ یہ آزادی کوچ اور کپتان کو ہونی چاہیے انہوں نے گراونڈ میں لڑانا ہوتا ہے، ورلڈ کپ کی پلئینگ الیون کا حق کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے تھا اور یہ وہی بتا سکتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیلا۔
عاقب جاوید نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر اسٹیک ہولڈر کی جو ذمے داری بنتی ہے وہ لینی چاہیے، ہم ہر ایونٹ کے بعد کہتے ہیں اسکروٹنی ہونی چاہیے سب بدل دو، چیئرمین بدل دو، سلیکٹرز بدل دو ،کپتان بدل دو ،یہ سب ہم ہر ہار کے بعد کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سب سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ڈویلپمنٹ نہیں ہورہی اور 2009 کے بعد ہماری ڈیولپمنٹ اس طرح نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے، ہمارا بس یہی ہوتا ہے کہ اب ہار ہوئی ہے اب سب کو نکال کر چھوڑنا ہے۔
عاقب جاوید نے بتایا کہ جیسن گلیسپی نے کہا تھا کہ 15 رکنی ٹیم میں تبدیلی نہیں ہو گی لہٰذا تب فیصلہ ہوا تھا کہ سلیکشن کمیٹی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔
سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے کہا کہ ہماری انڈر اسٹینڈنگ یہی تھی کہ کوچ کوفری ہینڈ بھی ملنا چاہیے، ہم نے اس مرتبہ بھی 20 پلیئرز دیے اور اس میں سے وہ دیکھے کہ کمبی نیشن کے لیے کیا مناسب ہیں۔
عاقب جاوید نے کہا کہ انٹرنیشنل ایونٹس کی مناسبت سے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس نہیں ہوتے مگر ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ایونٹ کی بنیاد پر انٹرنیشنل ایونٹ کے لیے منتخب کرلیں۔
دوسری جانب سرفراز احمد نے کہا کہ تین چار وکٹ کیپرز پائپ لائن میں ہیں جن میں حسیب اللہ اور روحیل نذیر بھی شامل ہیں جبکہ غازی غوری کی حالیہ فارم اچھی رہی ہے ڈویلپمنٹ کے طور پر غازی غوری اچھا آپشن تھے، شامل حسین کی ڈومیسٹک پرفارمنس شاندار رہی ہیں۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کو کہاں کسپلیئر کی ضرورت ہے، میرے پاس اس وقت جو ذمہ داری ہے اسی پر فوکس ہے اور جب بھی موقع ملتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچاوں، کپتانی میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن غلطیاں کھیل کا حصہ ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


