جمعرات, جون 11, 2026
اشتہار

ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ؛ نجم سیٹھی کا بیان وائرل

اشتہار

حیرت انگیز

(5 فروری 2026): پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش سے اظہارِ یکجہتی کے سبب ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کے کئی اثرات ہو سکتے ہیں۔

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی نے پاکستان کے اس غیر معمولی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کی قانونی حیثیت اور اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی قوانین کیا کہتے ہیں؟

نجم سیٹھی نے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی اردو سروس سے گفتگو میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ ایک سوچا سمجھا قدم ہے کیونکہ یہی میچ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کیلیے سب سے زیادہ مالی اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستان اب آئی سی سی کی آمدن پر انحصار نہیں کرتا

سابق چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان پہلے آئی سی سی کی آمدن پر مکمل انحصار کرتا تھا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی آمدن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے زیادہ ہے، لہٰذا اسلام آباد اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور مضبوط پوزیشن پر ہے۔

آئی سی سی کے مالی ماڈل سے بھارت کو غیر متناسب فائدہ

نجم سیٹھی نے کہا کہ آئی سی سی کے موجودہ مالی ماڈل میں بھارت کو غیر متناسب فائدہ دیا جا رہا ہے جبکہ چھوٹے بورڈز مسلسل نقصان میں ہیں، اگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو پاک بھارت میچ اور اس سے جڑی آمدن چاہیے تو اسے انصاف اور برابری کے اصولوں کیلیے کھڑا ہونا ہوگا۔

انڈین براڈکاسٹر کو دھچکا

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاک بھارت میچ سے سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے لہٰذا اگر یہ میچ نہ ہونے کا سب سے زیادہ نقصان انڈین براڈکاسٹر کو ہوگا لیکن وہ پی سی بی کے خلاف براہ راست قانونی کارروائی نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر براڈکاسٹر کھیل کو غیر منافع بخش قرار دے کر معاہدہ واپس لے تو اس کا اثر آئی سی سی پر پڑے گا۔

آئی سی سی کی بنگلہ دیش کے ساتھ ناانصافی

نجم سیٹھی کے مطابق آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے ساتھ ناانصافی کی ہے لیکن اب بھی موقع ہے کہ اس کی گورننگ باڈی صورتحال کو درست طریقے سے حل کر لے، امید ہے عقل مندی سے کام لیتے ہوئے درست فیصلہ کیا جائے گا۔

سابق چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں اہمیت برقرار رکھنے کیلیے اب بھی راستے موجود ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں